حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے ضلع دیوریا میں ایک درگاہ اور مسجد کے بعض حصوں کی مسماری کے چند روز بعد پولیس کارروائیوں نے مسلم برادری میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ مقامی مسلمانوں کا الزام ہے کہ حکومت اختلافِ رائے کو دبانے اور مذہبی اداروں کے خلاف قانون کا غلط استعمال کررہی ہے۔
کلیرین انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے سوشل میڈیا پر مسماری کے خلاف تنقیدی پوسٹس کرنے کے الزام میں مقامی خاتون افسانہ اور نوجوان سراج انصاری کو گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ درگاہ کمیٹی کے چار ارکان، اس وقت کے لاء آفیسر و دیگر کے خلاف بھی زمین کے ریکارڈ سے متعلق الزامات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ کارروائی حضرت سید شہید عبدالغنیؒ کی درگاہ کی مسماری کے بعد سامنے آئی ہے، جو گورکھپور اوور برج کے قریب واقع تھی۔ 11 اور 12 جنوری کو بلڈوزروں کے ذریعہ درگاہ کے گنبد اور تقریباً 4 ہزار مربع فٹ پر مشتمل ایک ہال کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہ پچاس سال پرانی درگاہ مقامی مسلمانوں کے لیے عقیدت کا مرکز رہی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کا مقصد برادری کو خوفزدہ کرنا ہے۔ ایک مقامی شخص نے بتایا کہ “پہلے گنبد توڑا گیا اور اب ہماری آوازیں توڑی جا رہی ہیں۔ لوگ صرف سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کرنے پر اٹھائے جا رہے ہیں۔”
ضلع انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ درگاہ بنجر زمین پر تعمیر کی گئی تھی اور 1993 میں غیرقانونی طور پر ریونیو ریکارڈ میں درج کی گئی۔ تاہم مسلم رہنما اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے وقف دستاویزات کا حوالہ دے رہے ہیں۔ اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ کے مطابق یہ درگاہ وقف نمبر 19 کے تحت رجسٹرڈ ہے اور اس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔


