حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں نجی اور کارپوریٹ اسکولوں کی بڑھتی ہوئی فیس کے مسئلے پر ریاستی حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھانے کی تیاری کر لی ہے۔ والدین پر مالی بوجھ کم کرنے کے مقصد سے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نجی اسکول ہر دو سال میں زیادہ سے زیادہ 8 فیصد تک ہی ٹیوشن فیس بڑھا سکیں گے۔ اس کے لیے ایک خصوصی قانون لانے کی تیاریاں جاری ہیں۔
اس معاملے پر قائم وزارتی ذیلی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر تعلیم کمیشن نے “تلنگانہ پرائیویٹ ان ایڈیڈ اسکول ریگولیٹری اینڈ مانیٹرنگ کمیشن ڈرافٹ بل-2025” تیار کیا ہے۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے بعد ہونے والے کابینہ اجلاس میں اس بل کو منظوری دے کر اسمبلی میں پیش کیا جائے۔
اہم نکات
نجی اسکول ہر دو سال میں زیادہ سے زیادہ 8 فیصد فیس بڑھا سکیں گے۔
اگر کوئی ادارہ 8 فیصد سے زیادہ اضافہ کرنا چاہے تو اسے ریاستی سطح کی فیس ریگولیٹری کمیٹی سے اجازت لینا لازمی ہوگا۔
ریاستی فیس ریگولیٹری کمیٹی تمام پہلوؤں کی جانچ کے بعد فیس کا تعین کرے گی۔
اسکول انتظامیہ کی مخالفت
نجی اسکولوں کی انتظامیہ نے حکومت کی اس تجویز کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی شرح ہر سال 5 تا 6 فیصد بڑھ رہی ہے، اساتذہ کی تنخواہیں، عمارتوں کے کرائے اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ایسے میں دو سال میں صرف 8 فیصد فیس اضافہ قابلِ عمل نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسکولوں کے پاس کالجوں کی طرح اضافی آمدنی کے ذرائع موجود نہیں ہوتے۔
اسکول انتظامیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ دیگر ریاستوں کی طرح سالانہ فیس میں اضافہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس سلسلے میں جلد ہی نجی اسکولوں کے نمائندے وزارتی ذیلی کمیٹی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ دوسری جانب، والدین کو راحت دینے اور تعلیمی اداروں کے معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے یہ قانون جون تک نافذ ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے، تاہم آنے والے مہینوں میں اس پر حتمی فیصلہ متوقع ہے۔


