اہم خبر: اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف منظم ظلم و تشدد، آئین اور جمہوریت شدید خطرے میں: APCR کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں خوفناک انکشافات (ویڈیو ضرور دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، تشدد اور منظم استحصال کی ایک خطرناک لہر جاری ہے، جس نے اب ریاست اتراکھنڈ میں سنگین انسانی حقوق کے بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کی جانب سے جاری کی گئی ایک تفصیلی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اتراکھنڈ میں مسلمان برادری کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں ریاستی مشینری کی خاموشی، پولیس کی جانبداری اور انتظامی زیادتیاں اس ظلم کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

56 صفحات پر مشتمل رپورٹ جس کا عنوان “Excluded, Targeted and Displaced: Communal Narratives and Violence in Uttarakhand” ہے، میں بتایا گیا ہے کہ اواخر 2023 کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف تشدد، نفرت انگیز مہم، معاشی بائیکاٹ اور جبری بے دخلی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اترا کشی، سری نگر، گوچر، کاشی پور، ہریدوار، نینی تال، دہرادون، ادھم سنگھ نگر، ہلدوانی اور وان گوجر آبادیوں میں مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور عبادت گاہوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کئی مقامات پر پولیس کی موجودگی کے باوجود تشدد کو نہیں روکا گیا۔ ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی گئی یا پھر دانستہ طور پر صرف مسلمانوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے۔ مسلمانوں کو ’’امن و امان‘‘ کے نام پر احتیاطی دفعات کے تحت حراست میں لیا گیا، جبکہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والے، کھلے عام قتل کی دھمکیاں دینے والے عناصر کے خلاف واضح ویڈیو شواہد کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں اس رویہ کو امتیازی پولیسنگ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ہندوتوا سے جڑی ریلیوں کے منتظمین کو وہ پابندیاں کبھی نہیں جھیلنی پڑیں جو مسلمانوں پر مسلط کی گئیں۔ APCR کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف اجتماعی سزا کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ بغیر نوٹس، بغیر سماعت، مکانات گرانے، دکانیں سیل کرنے اور بستیوں سے بے دخل کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، جو آئین کی روح اور قانونی تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

یہ اقدامات نہ صرف مسلمانوں کو مزید حاشیہ پر دھکیل رہے ہیں بلکہ ملک کے سیکولر اور جمہوری ڈھانچہ پر بھی کاری ضرب ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تشدد اور دھمکیوں کے باعث کئی مسلم خاندان اپنے گھروں سے عارضی یا مستقل طور پر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ خواتین، بچے اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی، روزگار ختم ہوا اور ایک پوری برادری خوف کے سائے میں جینے پر مجبور کر دی گئی۔

رپورٹ میں دسمبر 2021 میں ہریدوار میں منعقد ہونے والی بدنامِ زمانہ ’دھرم سنسد‘ کو اس نفرت انگیز رجحان کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، جہاں مسلمانوں کے قتل، نسل کشی اور بھارت کو ہندو راشٹر بنانے جیسے کھلے عام نعرے لگائے گئے۔ APCR کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف آئین کی توہین ہیں بلکہ سماج میں زہر گھولنے کے مترادف ہیں۔

دہلی کے پریس کلب میں رپورٹ کے اجرا کے موقع پر سابق لیفٹیننٹ گورنر نجب جنگ نے خبردار کیا کہ یہ واقعات الگ تھلگ نہیں بلکہ ایک بار بار دہرایا جانے والا سنگین جرم ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا: *”کیا یہ واقعی قانون و نظم کا مسئلہ ہے یا پھر مسلمانوں کی نسلی صفائی کی ایک منظم کوشش؟”

سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق آئینِ ہند کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتا ہے۔

سابق IAS افسر اور سماجی کارکن ہرش مندر نے اتراکھنڈ کے طرزِ حکمرانی کو “گہرے طور پر غیر آئینی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’دیوبھومی‘‘ کے نام پر غیر ہندوؤں کو باہر دھکیلنے کا نظریہ آئین سے متصادم ہے۔

رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ:
* نفرت انگیز تقاریر اور تشدد میں ملوث تمام افراد کے خلاف فوری، غیر جانبدار اور سخت قانونی کارروائی کی جائے
* مسلمانوں کے خلاف معاشی بائیکاٹ اور اجتماعی سزا کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے
* آزاد عدالتی تحقیقات کرائی جائیں
* آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور انسانی وقار کا تحفظ یقینی بنایا جائے

APCR کی یہ رپورٹ ایک واضح انتباہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے خلاف جاری یہ منظم ظلم نہ روکا گیا تو یہ صرف ایک برادری نہیں بلکہ بھارت کے آئین، جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ خاموشی اب جرم بن چکی ہے، اور اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ہر انصاف پسند شہری کی ذمہ داری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں