حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے نوئیڈا سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم عالم دین پر مبینہ نفرت انگیز حملے کے معاملے میں اتر پردیش حکومت سے سخت سوالات کیے ہیں۔ عدالت نے پوچھا کہ 2021 میں درج ایف آئی آر میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 153 بی اور 295 اے کیوں شامل نہیں کی گئیں، حالانکہ الزامات بادی النظر میں نفرت انگیز جرم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ، کاظم احمد شیروانی کی عرضی پر سماعت کر رہا تھا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی مسلم شناخت کی بنیاد پر ایک گروہ نے حملے کا نشانہ بنایا، جبکہ پولیس نے نہ صرف شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ نفرت انگیز جرائم سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے سے بھی گریز کیا۔
درخواست گزار کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ حذیفہ احمدی نے عدالت کو بتایا کہ یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ معاملہ نہیں بلکہ ایسے واقعات بار بار پیش آرہے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے ان پر کارروائی میں مسلسل ہچکچاہٹ دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی ہدایت پر کیس ڈائری پیش کی گئی اور ایف آئی آر تو درج ہوئی، مگر اس میں نفرت انگیز جرم کی دفعات کے بجائے جسمانی نقصان اور چوری جیسے الزامات شامل کیے گئے۔
سماعت کے دوران جسٹس مہتا نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ان دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تحت سرکاری منظوری ضروری ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایف آئی آر ہی درج نہ کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ پہلے مقدمہ درج کرنا، تفتیش کرنا اور اس کے بعد منظوری طلب کرنا لازمی عمل ہے۔
اضافی سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج، جو ریاستی حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے، نے اعتراف کیا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر متعلقہ دفعات کے تحت درج ہونی چاہیے تھی اور اسے تفتیشی افسر کی کوتاہی قرار دیا۔ عدالت نے ایک ہفتے کے اندر حکومت کو ہدایات حاصل کر کے جواب پیش کرنے کا وقت دیا۔
عدالت نے تاہم اس معاملے کو ملک گیر رجحان یا قومی سالمیت سے جوڑنے سے گریز کیا اور کہا کہ اس کے سامنے فی الحال ایک فرد کا معاملہ ہے، جس پر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔


