چھتیس گڑھ میں شدت پسند درندوں نے مسلم بستی پر حملہ کردیا، مکانات نذرِ آتش، کئی پولیس اہلکار شدید زخمی، گودی میڈیا غنڈوں کو بچانے کےلئے میدان میں، مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے کی سازش جاری

حیدرآباد (دکن فائلز) چھتیس گڑھ کے ضلع گریابند کے گاؤں دوتکئیا میں اتوار کو ایک مشتعل ہجوم نے مسلم بستی پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجہ میں کم از کم چھ مسلم مکانات کو آگ لگا دی گئی۔ اس دوران خواتین اور بچوں سمیت بیس سے زائد افراد کو بچانے کی کوشش میں سات پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ پولیس کے مطابق ہجوم میں سینکڑوں افراد شامل تھے جو لاٹھیوں، اینٹوں، پتھروں اور مٹی کے تیل کی بوتلوں سے لیس تھے۔ ہجوم نے ان دس مسلم خاندانوں کے گھروں میں داخل ہونے کی کوشش کی جنہوں نے خوف کے مارے اپنے مکانات بند کر لیے تھے۔

اس دوران ہمیشہ کی طرح گودی میڈیا پوری طرح غنڈوں کو بچانے کےلئے میدان میں کود پڑا اور شدت پسند درندوں کا دفاع کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد الزامات اور نفرت انگیزی جاری رکھے ہوئے ہے۔ شدت پسندوں نے حملہ کرکے متعدد مکانات کو آگ لگادی، جبکہ گودی میڈیا اس کےلئے مسلمانوں کو قصوروار ٹھہرا رہا ہے اور بکواس کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ ایک پرانے تنازعہ سے جڑا ہوا ہے۔ سال 2024 میں عارف خان نامی شخص کو گاؤں کے ایک مندر میں مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا اور بعد میں اسے ضمانت مل گئی تھی۔ اتوار کی صبح اس کی گاؤں واپسی کے بعد شدت پسندوں نے حملہ کردیا، جس کے بعد حالات بگڑ گئے۔

ایک پولیس افسر کے مطابق راجیم کمبھ کے باعث فورس کی کمی تھی، اس کے باوجود پولیس نے کئی گھنٹوں تک مورچہ سنبھالے رکھا اور ہجوم کو مکانات میں داخل ہونے سے روکا۔ بعد میں متاثرہ خاندانوں کو ایک بس کے ذریعہ محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

اس واقعہ میں دو شہری زخمی ہوئے جبکہ چھ پولیس اہلکاروں کو شدید چوٹیں آئیں، جن میں سے ایک کو سر پر اینٹ لگنے سے سنگین زخم پہنچے۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور معاملہ کی تفتیش جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں