حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے غازی آباد میں ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک ہی خاندان کی تین نابالغ بہنوں نے مبینہ طور پر نویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ چہارشنبہ کی علی الصبح تقریباً 2 بجکر 15 منٹ پر بھارت سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آیا، جس کے بعد پورے علاقے میں غم اور سناٹا چھا گیا۔
پولیس کے مطابق تینوں بہنوں کی شناخت پاکھی (12 سال)، پراچی (14 سال) اور وشیکا (16 سال) کے طور پر ہوئی ہے۔ تینوں اپنے والد چیتن کمار اور اہل خانہ کے ساتھ ٹاور بی-1، فلیٹ نمبر 907 میں رہتی تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تینوں بہنیں رات کے وقت بالکنی میں گئیں، دروازہ بند کیا اور یکے بعد دیگرے نیچے چھلانگ لگا دی۔
واقعہ کے بعد موقع سے ایک خودکشی نوٹ برآمد ہوا ہے، جس میں لکھا تھا: ’’ممی پاپا سوری‘‘۔ جبکہ بعد میں ملنے والی آٹھ صفحات پر مشتمل ڈائری میں ان کی موبائل اور گیمنگ سرگرمیوں کا ذکر موجود ہے۔ ڈائری میں لکھا گیا ہے: “اس ڈائری میں جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب پڑھ لو، کیونکہ سب سچ ہے۔ ابھی پڑھو۔ آئی ایم ریئلی سوری، سوری پاپا۔”
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ تینوں بہنیں ایک کوریائی ٹاسک بیسڈ آن لائن گیم اور مجموعی طور پر کوریائی کلچر سے حد درجہ متاثر تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق وہ پچھلے دو برس سے اسکول جانا چھوڑ چکی تھیں اور زیادہ تر وقت موبائل اور گیمز میں گزارتی تھیں۔ حالیہ دنوں میں والدین نے ان کے موبائل استعمال پر پابندی عائد کی تھی، جس کے بعد ان کے رویّہ میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔
اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس اتل کمار سنگھ نے بتایا کہ ابتدائی جانچ میں زمین پر گرنے سے ہی تینوں کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ پولیس تینوں کے موبائل فون، ڈیجیٹل ڈیٹا اور آن لائن سرگرمیوں کا تفصیلی تجزیہ کر رہی ہے۔ ایک سینئر افسر نیمش پٹیل کے مطابق تاحال کسی مخصوص گیم کا نام سامنے نہیں آیا، تاہم نوٹ اور شواہد سے واضح ہے کہ بچیاں کوریائی کلچر سے شدید متاثر تھیں۔
یہ سانحہ کم عمری میں آن لائن لت، ذہنی دباؤ اور والدین و بچوں کے درمیان ڈیجیٹل فاصلے جیسے سنگین سماجی مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ علاقے کے لوگ اور اہلِ محلہ اس واقعہ پر شدید صدمہ میں ہیں۔
اگر آپ یا آپ کا کوئی قریبی فرد ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو مدد ضرور حاصل کریں: وندرایلا فاؤنڈیشن فار مینٹل ہیلتھ: 9999666555 سے فوری ربط کریں۔


