حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش میں ضلع بالاگھاٹ کے گھوٹی–نندورا گاؤں میں کم از کم دس مسلم خاندانوں کے مبینہ سماجی اور معاشی بائیکاٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ جنوری میں منعقد ایک ہندو کنونشن کے بعد گاؤں میں مسلمانوں کے ساتھ تمام سماجی اور تجارتی تعلقات ختم کرنے کی اپیل کی گئی۔
دینک جاگرن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ متاثرین کے مطابق کنونشن کے دوران لوگوں سے کہا گیا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کھانے پینے، کاروبار اور روزمرہ لین دین سے مکمل طور پر اجتناب کریں۔ اس کے بعد کئی مسلم خاندانوں کی روزی روٹی اور بنیادی سہولتوں تک رسائی شدید متاثر ہوئی ہے۔
آصف حسین، جو اسکول بس ڈرائیور تھے، نے بتایا کہ گاؤں والوں کے اعتراض کے بعد انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔ اسی طرح الیکٹریشن صادق حسین نے کہا کہ ایک ہفتہ سے زیادہ عرصے سے انہیں کام نہیں مل رہا، جب کہ بعض دکانداروں نے راشن فروخت کرنے اور نائیوں نے خدمات دینے سے تک انکار کر دیا ہے۔
گاؤں کی ایک خاتون خیرالنساء نے کہا کہ اس سے قبل تمام برادریاں پرامن طور پر رہتی تھیں، مگر اب خوف کا ماحول ہے اور بچے بھی اسکول جانے سے ہچکچا رہے ہیں۔ الزام ہے کہ گاؤں کے ذمہ داروں کے ذریعہ باضابطہ طور پر بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔
سابق رکن اسمبلی کشور سامرِتے نے واقعہ کو آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ سے جانچ، پولیس فلیگ مارچ اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ کی جانچ جاری ہے اور متاثرین کے بیانات درج کیے جا رہے ہیں۔
اس خبر کے بعد ملک بھر کے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور آزاد ہندوستان کے حالات پر افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔


