حیدرآباد تین گریٹر میونسپل کارپوریشنوں میں تقسیم، حکومت کا باضابطہ اعلان (دکن فائلز کی خصوصی رپورٹ)

حیدرآباد (دکن فائلز) ریاستی حکومت نے طویل قیاس آرائیوں کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔ اس تاریخی فیصلے کے تحت اب عظیم الشان شہرِ حیدرآباد کا بلدیاتی نظم و نسق تین علیحدہ کارپوریشنوں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC)، سائبرآباد میونسپل کارپوریشن (CMC) اور ملکاجگیری میونسپل کارپوریشن (MMC) کے ذریعہ چلایا جائے گا۔

حکومت کے مطابق یہ فیصلہ شہری سہولتوں کو عوام کے قریب لانے، انتظامی بوجھ کم کرنے اور اختیارات کی مؤثر تقسیم کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہو گئے ہیں۔

حکومت نے تینوں کارپوریشنوں کے لیے کمشنروں کی تقرری بھی کر دی ہے۔ آر وی کرنن بدستور جی ایچ ایم سی کے کمشنر رہیں گے۔ جی سریجانا کو سائبرآباد میونسپل کارپوریشن کا کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔ ٹی ونئے کرشنا ریڈی ملکاجگیری میونسپل کارپوریشن کے کمشنر ہوں گے۔

تینوں اداروں کے درمیان تال میل اور نگرانی کے لیے سینئر آئی اے ایس افسر جیش رنجن کو خصوصی افسر مقرر کیا گیا ہے۔

سرکاری حکم نامہ کے مطابق: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں شمش آباد، راجندر نگر، گولکنڈہ، چارمینار، خیریت آباد اور سکندرآباد زون شامل ہوں گے۔ یہ علاقہ تاریخی حیدرآباد کے قلب کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں چارمینار، مکہ مسجد، لاڈ بازار اور قدیم تہذیبی ورثہ آج بھی شہر شان شوکت ظاہر کرتا ہے۔

سائبرآباد میونسپل کارپوریشن میں کوکٹ پلی، شیرلنگم پلی اور قطب اللہ پور زونس کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ علاقہ جدید آئی ٹی ہب، ہائی ٹیک سٹی اور تیزی سے ترقی کرتے رہائشی علاقوں پر مشتمل ہے۔

ملکاجگیری میونسپل کارپوریشن ۔ ملکاجگیری، اپل اور ایل بی نگر زون اس کے دائرہ کار میں آئیں گے۔ یہ علاقے مشرقی اور شمالی حیدرآباد کے تیزی سے پھیلتے شہری مراکز ہیں۔

حکومت نے جی ایچ ایم سی کے حدود 650 مربع کلومیٹر سے بڑھا کر تقریباً 2000 مربع کلومیٹر تک وسیع کردیا ہے اور وارڈز کی تعداد 150 سے بڑھا کر 300 کیا جارہا ہے۔

حکومت کے اس فیصلہ پر مجلس اور بی آر ایس نے اعتراض جتایا تھا۔ تاہم ایسا مانا جارہا ہے کہ تقسیم کے بعد جی ایچ ایم سی حدود میں مجلس کی طاقت میں اضافہ ہوگا۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مجلس کی پوزیشن مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔

یہ فیصلہ بلاشبہ حیدرآباد کی انتظامی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ جہاں ایک طرف شہر کی وسعت اور آبادی کے پیش نظر نئی بلدیاتی ساخت تشکیل دی گئی ہے، وہیں دوسری جانب تاریخی حیدرآباد کی شناخت کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ حیدرآباد اپنی عظمت، رواداری اور گنگا جمنی تہذیب کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور اس نئی انتظامی ترتیب میں بھی اس کی پہچان اور وقار قائم رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں