حیدرآباد (دکن فائلز) راجستھان کے بانسواڑہ ضلع میں پولیس نے گجرات کے شہر گودھرا سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے 12 افراد کو حراست میں لیا، جن پر بغیر اجازت مذہبی تبلیغ کرنے اور پولیس سے مبینہ بدسلوکی کے بے بنیاد الزام عائد کئے گئے۔
دی ابزرور پوسٹ کی اطلاع کے مطابق یہ کارروائی 6 فروری کو بگیڈورا ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں درج شکایت کے بعد عمل میں آئی، جس میں کہا گیا تھا کہ 10 تا 12 افراد گزشتہ دو دنوں سے علاقہ میں گھوم رہے تھے اور مذہبی سرگرمیوں کے ذریعہ عوامی امن میں خلل ڈال رہے تھے۔ پولیس کے مطابق ان افراد کو ایک مقامی مسجد سے حراست میں لیا گیا۔
پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے خود کو تبلیغی جماعت کا رکن بتایا اور کہا کہ وہ آنے والے رمضان سے قبل دیہات میں اسلام کے بارے میں بیداری پیدا کرنے آئے تھے۔ تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان افراد نے اپنی آمد اور سرگرمیوں کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی تھی اور جب قواعد و ضوابط کی وضاحت کی گئی تو مبینہ طور پر انہوں نے جارحانہ رویہ اختیار کیا۔
پولیس افسران کے مطابق صورتحال کشیدہ ہونے اور امن و امان میں خلل کے خدشے کے پیش نظر بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کے تحت احتیاطی کارروائی کی گئی۔ تمام 12 افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں ضمانت مل گئی۔ بعد ازاں پولیس نے انہیں گجرات سرحد تک چھوڑ دیا، جس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق اس واقعہ کے بعد ان افراد کے خلاف مزید کسی قانونی کارروائی کی اطلاع نہیں ہے۔
واضح رہے کہ تبلیغی جماعت ایک عالمی اسلامی اصلاحی تحریک ہے جس کی بنیاد 1926 میں مولانا محمد الیاس نے رکھی تھی، اور یہ تحریک غیر سیاسی انداز میں مسلمانوں کو دینی زندگی کی طرف راغب کرنے پر زور دیتی ہے۔ اس واقعہ سے ایک بار پھر مذہبی آزادی پر سوال اٹھ رہے ہیں خاص طور پر چن چن کر مسلمانوں کو مذہبی امور پر چلنے سے روکے جانے کی مذمت کی جارہی ہے۔ تبلیغی جماعت دنیا بھر میں صرف مسلمانوں میں دینی شعور بیدار کےلئے کام کرتی ہے، جبکہ اس سے کسی قسم کا کوئی بدامنی پھیلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


