حیدرآباد (دکن فائلز) پوزیشن جماعتوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد لانے کے لیے باضابطہ نوٹس جمع کردی ہے۔ یہ نوٹس آئینِ ہند کے آرٹیکل 94-سی کے تحت لوک سبھا کے سیکریٹری جنرل کو دیا گیا۔
کانگریس پارٹی کے رہنما گورو گوگوئی نے بتایا کہ اس نوٹس پر کانگریس، سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 120 ارکان پارلیمان کے دستخط موجود ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اسپیکر مسلسل جانبدارانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں اور ایوان میں اپوزیشن ارکان کو عوامی مفاد کے اہم مسائل اٹھانے سے روکا جا رہا ہے۔
اپوزیشن کے مطابق صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر تحریک تشکر کے دوران قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت نہ دینا، آٹھ اپوزیشن ارکان کی معطلی، اور کانگریس کی خواتین اراکین کے خلاف الزامات کے باوجود بی جے پی رکن نشی کانت دوبے کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنا اس عدم اعتماد کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ پارلیمان میں اظہارِ خیال کا حق ہر رکن کا بنیادی اور آئینی حق ہے، مگر بارہا دیکھا گیا ہے کہ اپوزیشن کو دانستہ طور پر بولنے سے روکا جا رہا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ آٹھ اپوزیشن ارکان کو صرف اپنے آئینی حقوق استعمال کرنے پر معطل کیا گیا، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ اسپیکر کے منصب کا احترام کرتی ہیں، لیکن ایوان کی کارروائی جس انداز میں چلائی جا رہی ہے اس سے نہ صرف جمہوریت بلکہ پارلیمانی روایات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب اس نوٹس پر قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور اگلا فیصلہ لوک سبھا میں طے شدہ طریقۂ کار کے تحت ہوگا۔


