حیدرآباد (دکن فائلز) سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایک تصویر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ غلافِ کعبہ (کسوہ) کو زمین پر بچھایا گیا ہے۔ اس تصویر نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید جذبات اور تشویش کو جنم دیا، کیونکہ غلافِ کعبہ کا تعلق براہِ راست ایمان، تقدس اور عقیدت سے ہے۔
تاہم حرمین شریفین سے وابستہ معتبر پلیٹ فارم انسائیڈ دی حرمین نے اس وائرل تصویر کی حقیقت واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تصویر اصل غلافِ کعبہ کی نہیں ہے۔ ادارے نے حرم شریف میں کام کرنے والے کسوہ کے ماہرین اور مستند ذرائع سے مشاورت کے بعد اس نتیجہ پر پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔
ماہرین کے مطابق وائرل تصویر میں دکھائے گئے کپڑے کی لمبائی اور چوڑائی اصل کسوہ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اصل غلافِ کعبہ کے بڑے حصوں کو عام طور پر سات سے آٹھ افراد مل کر سنبھالتے ہیں، جبکہ اس تصویر میں کپڑا اس قدر چھوٹا نظر آتا ہے کہ چند افراد ہی اسے اٹھا سکتے ہیں۔
اسی طرح کپڑے کا وزن، ساخت اور موٹائی بھی اصل کسوہ سے مختلف ہے۔ اصل غلافِ کعبہ نہایت بھاری، مضبوط اور مخصوص کڑھائی کا حامل ہوتا ہے، جو زمین پر اس طرح ہلکے انداز میں مڑ نہیں سکتا جیسا کہ وائرل تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ اصل کسوہ کی کڑھائی، بارڈر، سیاہ فریم اور قرآنی نقوش نہایت واضح اور نمایاں ہوتے ہیں، جبکہ وائرل تصویر میں یہ خصوصیات غیر واضح یا ناقص دکھائی دیتی ہیں۔
مزید یہ کہ کسوہ کے مخصوص نمونے، کنارے اور گول مدالین، جو اس کی اصل پہچان ہیں، وائرل تصویر میں درست جگہ پر موجود نہیں پائے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نقلی کسوہ ظاہری طور پر اصل سے مشابہ ہو سکتی ہے، لیکن باریکی سے جائزہ لینے پر فرق صاف ظاہر ہو جاتا ہے۔
انسائیڈ دی حرمین نے زور دیا کہ مقدس امور سے متعلق کسی بھی خبر یا تصویر کو بغیر تصدیق کے پھیلانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ دینی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ ادارے نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جذبات میں آ کر غیر مصدقہ معلومات آگے نہ بڑھائیں۔
مزید تفصیلات کےلئے ٹوئٹر کی لنک پر کلک کریں:
https://x.com/insharifain/status/2020838042278486096
آخر میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو سچائی، صبر اور حکمت عطا فرمائے اور ہمیں ایسی باتیں پھیلانے سے محفوظ رکھے جن کا ہمیں یقینی علم نہ ہو۔


