حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی ہائی کورٹ نے چہارشنبہ کے روز ایک ہندوتوا این جی او ’’سیو انڈیا فاؤنڈیشن‘‘ کی جانب سے مساجد، درگاہوں اور وقف املاک کے خلاف مبینہ تجاوزات سے متعلق بار بار مفاد عامہ کی عرضیاں (PILs) دائر کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیایا اور جسٹس تیجس کاریا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ریمارکس دیے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تنظیم مخصوص طور پر ایک ہی مذہبی زمرے کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور عدالت کے دائرہ اختیار کا غلط استعمال کر رہی ہے۔
عدالت نے اس بات پر بھی برہمی ظاہر کی کہ متعلقہ وکیل مبینہ طور پر زیر سماعت معاملات پر عدالت سے باہر اور سوشل میڈیا پر تبصرے کرتے ہیں۔ بنچ نے کہاکہ ’’سوشل میڈیا کی بات نہ کریں۔ ہمیں معلوم ہے کہ روز کیا ہو رہا ہے… یہ مسٹر شرما کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے موکل کو حساس بنائیں اور خود بھی احتیاط برتیں۔ یہ بہت بری روایت ہے کہ معاملہ یہاں زیر سماعت ہو اور وکیل باہر جا کر انٹرویو دینا شروع کر دے۔‘‘
عدالت نے خبردار کیا کہ حساس معاملات میں عوامی جذبات کو بھڑکانے سے گریز کیا جائے اور تمام دلائل عدالت کے اندر ہی پیش کیے جائیں۔ بنچ نے کہا، ’’آپ پہلے ہی عدالت کے سامنے ہیں، جو کچھ کہنا ہے یہیں کہیں۔ ہم اپیل کرتے ہیں کہ جذبات کو مزید نہ بھڑکایا جائے۔‘‘
یہ معاملہ اس وقت زیر سماعت آیا جب محمد کامران، جو سیویلین ویلفیئر چیریٹیبل ٹرسٹ کے سربراہ ہیں، نے ایک علیحدہ پی آئی ایل دائر کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیو انڈیا فاؤنڈیشن اور سیوا نیایا اُتھان فاؤنڈیشن جیسی تنظیمیں سیاسی مقاصد کے لیے مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی غرض سے غیر سنجیدہ عرضیاں داخل کر رہی ہیں۔
درخواست میں ترکمان گیٹ کے نزدیک مسجد فیض الٰہی کے اطراف میونسپل کارپوریشن آف دہلی کی مبینہ انہدامی کارروائی کا حوالہ دیا گیا، جو ہائیکورٹ کے تجاوزات کے خلاف کارروائی کے حکم کے بعد کی گئی تھی۔ کامران کا مؤقف تھا کہ عدالت کو گمراہ کیا گیا کیونکہ نہ تو مسجد کی منتظمہ کمیٹی کو اور نہ ہی دہلی وقف بورڈ کو فریق بنایا گیا، جو پی آئی ایل کے اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے عدالت سے مسجد کے خلاف کارروائی روکنے، سیو انڈیا فاؤنڈیشن پر جرمانہ عائد کرنے اور ہائی کورٹ کے پی آئی ایل قواعد کو مزید سخت بنانے کی ہدایت دینے کی درخواست کی۔ تاہم عدالت نے فوری حکم جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں زیر التوا عرضیوں میں فریق بننے کے لیے درخواست داخل کرنے کا مشورہ دیا۔
اسی دوران سیو انڈیا فاؤنڈیشن کی ایک اور پی آئی ایل بھی زیر سماعت آئی، جس میں 1980 کے ایک نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت بعض جائیدادوں کو وقف املاک قرار دیا گیا تھا۔ تنظیم کا دعویٰ تھا کہ متعلقہ زمین دراصل ایک عوامی پارک ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ وہ اس مرحلہ پر یہ اعلان نہیں کر سکتی کہ متعلقہ جائیدادیں وقف نہیں ہیں اور کہا کہ اس طرح کے معاملات میں عدالتی وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ بنچ نے سخت الفاظ میں کہاکہ ’’ہماری برداشت کا امتحان نہ لیں۔ ہم آپ کے ساتھ کافی روادار رہے ہیں، لیکن یہ عدالتی عمل کا صریح غلط استعمال ہے۔‘‘
ان ریمارکس کے بعد تنظیم نے اپنی درخواست واپس لے لی۔


