حیدرآباد کے حفیظ پیٹ میں شدت پسندوں کا ننگا ناچ! ٹرین میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر تشدد! داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر فرقہ پرستوں نے حملہ کردیا، ریلوے اہلکاروں کے خلاف بھی سنگین الزامات، تشدد میں محمد عمران شدید زخمی (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے شہر لاتور جانے والے ایک مسلم مسافر نے الزام عائد کیا ہے کہ منماڈ–کاکیناڈا–شرڈی ایکسپریس میں سفر کے دوران تقریباً 20 شدت پسندوں کے ایک گروپ نے انہیں مذہبی شناخت کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ دی ابزرور پوسٹ کی اطلاع کے مطابق واقعہ مبینہ طور پر حیدرآباد کے حفیظ پیٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب پیش آیا۔

متاثرہ شخص محمد عمران کے مطابق وہ اے سی کوچ میں سفر کر رہے تھے جب ٹرین حفیظ پیٹ اسٹیشن پر رکی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی دوران ریلوے عملے اور چند دیگر افراد ایک ایسے مسافر کو مار رہے تھے جس پر بغیر ٹکٹ سفر کرنے کا الزام تھا۔ عمران کے مطابق جب انہوں نے اور چند دیگر مسافروں نے مداخلت کرتے ہوئے پوچھا کہ اس شخص کو کیوں مارا جا رہا ہے، تو صورتحال نے اچانک سنگین رخ اختیار کر لیا۔

عمران نے الزام لگایا کہ مداخلت کے بعد حملہ آوروں نے انہیں نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ “انہوں نے میری داڑھی کھینچی، سر سے ٹوپی اتار کر پھینک دی اور مجھے بری طرح مارا۔ مجھے اتنا مارا گیا کہ میرے منہ سے خون بہنے لگا،” انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا۔ عمران کے مطابق ان کے ایک ساتھی نے جب انہیں بچانے کی کوشش کی تو اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کا موبائل فون چھین لیا گیا۔

سوشل میڈیا پر 11 فروری کو ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں محمد عمران کو پولیس اہلکاروں کے سامنے واقعہ بیان کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں وہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ “مجھے بس اٹھایا اور مارنے لگا۔” عمران کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے انہیں خاص طور پر ان کی داڑھی اور ٹوپی کی وجہ سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیاکہ “یہ سب صرف اس لیے کیا گیا کیونکہ ہم کون ہیں،”

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مدد کے لیے بار بار اپیل کے باوجود نہ ٹی ٹی نے مداخلت کی اور نہ ہی ریلوے پولیس نے فوری مدد فراہم کی۔ عمران کے مطابق بیدر کے رہائشی عادل خان نے انہیں بچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب وہ بیدر اسٹیشن پر اتر کر شکایت درج کرانا چاہتے تھے تو انہیں ٹرین سے اترنے کی اجازت نہیں دی گئی اور مجبوراً لاتور تک سفر جاری رکھنا پڑا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس دوران کچھ رقم بھی ضائع ہوئی یا لے لی گئی۔

محمد عمران نے اعلان کیا ہے کہ وہ حفیظ پیٹ ریلوے اسٹیشن پر باضابطہ شکایت درج کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ “میں انصاف چاہتا ہوں۔ کسی کے ساتھ صرف اس لیے ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ٹوپی پہنتا ہے اور داڑھی رکھتا ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے۔”

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:

میڈیا رپورٹس کے مطابق تاحال ریلوے حکام یا مقامی پولیس کی جانب سے اس واقعہ پر باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں