حیدرآباد (دکن فائلز) آسام میں انتخابات سے قبل بھگوا پارٹی کی جانب سے ایس آئی آر کو لیکر انتہائی متنازعہ دعوے کئے جارہے تھے اور ہندوستانی مسلمانوں کو درانداز قرار دینے کی ناپاک کوشش کی گئی تاہم ریاست میں ایس آئی آر کے تازہ اعداد و شمار سے ہندوتوا شدت پسندوں کو خوب مایوسی ہوئی ہے۔ خصوصی نظرِ ثانی کے بعد جملہ ووٹر فہرست میں 0.97 فیصد کی کمی دیکھی گئی تو مسلم اکثریتی اضلاع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ایس آئی آر کے پورے عمل کے دوران بی جے پی کے ارکان و دیگر ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے ایک خاص طبقہ کو نشانہ بناتے ہوئے فہرست رائے دہندگان میں ان کے ناموں کو ہٹانے کی بھرپور و ناپاک کوشش کی گئی۔ اس کا کچھ ووٹرز پر اثر بھی ہوا۔ انہیں اس دوران متعدد مشکلات سے گذرنا بھی پڑا۔
منی کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق آسام میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے بعد مجموعی طور پر رائے دہندگان کی تعداد میں 0.97 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم مسلم اکثریتی اضلاع میں ووٹروں کی تعداد میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق یہ رجحان مغربی اور وسطی آسام کے چند اضلاع میں نمایاں ہے۔
10 فروری تک جاری کردہ حتمی انتخابی فہرست کے مطابق ریاست میں ووٹروں کی تعداد 2.49 کروڑ ہے، جو کہ مسودہ فہرست کے مقابلے میں تقریباً 2.43 لاکھ (243,485) کم ہے۔ اس طرح مجموعی کمی 0.97 فیصد بنتی ہے۔
ریاست کے 35 اضلاع میں سے 24 میں جملہ ووٹروں کی تعداد میں کمی جبکہ 11 میں اضافہ درج کیا گیا۔ جن اضلاع میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ان میں بارپیٹا (3.3 فیصد)، موریگاؤں (0.7 فیصد) اور بونگائی گاؤں (0.6 فیصد) شامل ہیں۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق بارپیٹا اور موریگاؤں مسلم اکثریتی اضلاع تھے، تاہم بعد میں بارپیٹا کو تقسیم کر کے بجالی ضلع بنایا گیا۔
اضافہ درج کرنے والے دیگر اضلاع میں گوئل پارہ، دھوبری، ناگاؤں، ہائیلاکنڈی، بجالی، ماجولی اور ساؤتھ سالمارا شامل ہیں۔ 2011 کی مردم شماری کے وقت بارپیٹا، موریگاؤں، بونگائی گاؤں، گوئل پارہ، دھوبری، ناگاؤں اور ہائیلاکنڈی مسلم اکثریتی اضلاع تھے، جبکہ بجالی، ماجولی اور ساؤتھ سالمارا بعد میں وجود میں آئے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مسلم آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے دو اضلاع کریم گنج اور دھوبری میں بالترتیب 3.2 فیصد اور 2.8 فیصد کمی درج کی گئی۔ اسی طرح سری بھومی، کچھر اور کامروپ میٹرو میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
مغربی یا زیریں آسام میں دھوبری، ساؤتھ سالمارا، گوئل پارہ اور بارپیٹا میں اضافہ ہوا، جس میں بارپیٹا میں 25 ہزار سے زائد نئے ووٹر شامل ہوئے۔ وسطی آسام میں رجحان ملا جلا رہا؛ درانگ اور ہوجائی میں کمی جبکہ موریگاؤں اور ناگاؤں میں اضافہ ہوا۔ براک ویلی کے تین اضلاع میں سے کچھر اور سری بھومی میں کمی جبکہ ہائیلاکنڈی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادھر چھٹی شیڈول کے تحت آنے والے تین پہاڑی اضلاع دیما ہاساؤ، کاربی آنگلونگ اور ویسٹ کاربی آنگلونگ میں ووٹروں کی تعداد میں کمی ہوئی۔ ریاست کی 126 اسمبلی حلقوں میں سے 32 میں ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ آسام میں رواں برس اسمبلی انتخابات متوقع ہیں۔
خصوصی نظرِ ثانی کے عمل نے سیاسی تنازع بھی کھڑا کیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ اس عمل کو ’’ووٹ چوری‘‘ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور بالخصوص اقلیتی برادری کے شہریوں کو ہراساں کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے ملک گیر خصوصی نظرِ ثانی کے دوسرے مرحلے میں آسام کو شامل نہیں کیا، جس کی ایک بڑی وجہ ریاست میں پہلے سے نافذ سخت نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کو قرار دیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر ریاست میں ووٹروں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے، تاہم مغربی اور بعض وسطی اضلاع، جہاں مسلم آبادی کا تناسب زیادہ ہے، وہاں اضافہ نمایاں رہا۔


