حیدرآباد: ٹرین میں مسلم نوجوان پر شدت پسندوں کا حملہ، فرقہ پرستوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ، ریلوے پولیس کے عہدیداروں سے امجد اللہ خان کی ملاقات

حیدرآباد (دکن فائلز) مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے ترجمان امجد اللہ خان نے 12 فروری کو تلنگانہ ریلوے پولیس سے ملاقات کر کے ٹرین میں ایک مسلم مسافر پر مبینہ حملے کے واقعہ پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ متاثرین کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ حیدرآباد سے لاتور (مہاراشٹر) جا رہے تھے۔

امجد اللہ خان متاثرین محمد عمران بابو سید، سمیر ذاکر سید اور فرمان رمضان تمبولی کے ہمراہ سکندرآباد ڈویژن کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف ریلوے پولیس (ڈی ایس آر پی) ایس این جاوید سے ملے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور مسافروں کے بیانات کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت اور گرفتاری عمل میں لائی جائے، لوٹی گئی 12 ہزار روپے نقدی اور تقریباً 16 ہزار روپے مالیت کے پرفیوم سامان کی بازیابی کی جائے، اور ڈیوٹی میں مبینہ غفلت برتنے والے ٹی ٹی ای اور متعلقہ عملے کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔

پس منظر کے مطابق، یہ واقعہ کاکیناڈا ایکسپریس میں پیش آیا جب ٹرین حافظ پیٹ اسٹیشن پر رکی ہوئی تھی۔ متاثرہ مسافر محمد عمران نے الزام لگایا کہ چند افراد نے ان کی داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر ان پر حملہ کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں عمران پولیس کو واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہتے ہیں: “مجھے بس اٹھایا اور مارنے لگے۔”

عمران کے مطابق، ابتدا میں کوچ میں کسی اور مسافر سے تکرار ہو رہی تھی، مگر جب وہ معاملہ جاننے کے لیے قریب گئے تو انہیں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی داڑھی کھینچی گئی، انہیں شدید مارا گیا جس سے خون بہنے لگا، اور ان کے دوست کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ان کا موبائل فون لے لیا اور اگلے اسٹیشن پر اترنے سے روک دیا۔

امجد اللہ خان نے کہا کہ ٹرینوں میں مسافروں کی حفاظت مذہب سے بالاتر ہو کر یقینی بنائی جانی چاہیے اور اس طرح کے واقعات اقلیتی مسافروں میں خوف پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سخت قانونی کارروائی سے ہی ریلوے سکیورٹی پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں