حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں 116 بلدیات اور سات میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کی ووٹوں کی گنتی جمعہ 13 فروری کی صبح 8 بجے شروع ہوئی۔ یہ انتخابات حکمراں کانگریس، اپوزیشن بی آر ایس اور بی جے پی کے لیے عوامی مقبولیت کا اہم امتحان سمجھے جا رہے ہیں۔ چونکہ اس مرتبہ بیلٹ پیپر استعمال کیے گئے، اس لیے گنتی کے عمل میں وقت لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے پوسٹل بیلٹس کی گنتی کی گئی۔
ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق کاؤنٹنگ مراکز پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جب کہ بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کے تحت مراکز کے اطراف امتناعی احکامات نافذ ہیں۔ تقریباً 12 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے اور تمام مراکز پر ویب کاسٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔
ابتدائی اور تازہ رجحانات کے مطابق ریاست بھر میں کانگریس کو واضح برتری حاصل ہے۔ ہزاروں وارڈز کے رجحانات میں کانگریس سب سے آگے، اس کے بعد بی آر ایس اور پھر بی جے پی کا نمبر ہے۔ متعدد بلدیات میں کانگریس نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے، جب کہ کچھ مقامات پر ہنگ اسمبلی کی صورتحال بھی سامنے آئی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق کل ہند مجلس اتحاد المسلمین نے عادل آباد میونسپل کونسل میں چھ نشستیں جیت لی ہیں اور دو مزید وارڈز میں سبقت حاصل ہے۔ وہیں وہیں نظام آباد بودھن میں مجلس نے شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے 12 سیٹیں جیت لی ہیں۔ ظہیر آباد میں بھی مجلس نے ابھی تک دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اسی طرح گدوال میں مجلس کو ایک وارڈ میں کامیابی حاصل ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق سنگاریڈی میں مجلس نے پانچ وارڈز پر شاندار مظاہرہ کیا۔ آج شام تک مکمل نتائج کا امکان ہے۔
ونپرتی ضلع میں 80 میں سے 61 وارڈز کے نتائج میں کانگریس کو 36، بی آر ایس کو 15 اور بی جے پی کو سات نشستیں ملیں۔ دو آزاد اور ایک سی پی ایم امیدوار کامیاب رہے۔
اسی طرح ضلع محبوب نگر میں کانگریس نے 10 میں سے سات وارڈز جیت کر واضح اکثریت حاصل کی۔ رنگا ریڈی ضلع میں 73 وارڈز کے نتائج میں بی آر ایس 32، کانگریس 27 اور بی جے پی نو نشستوں کے ساتھ آگے ہے۔
وقار آباد میں 100 میں سے 41 وارڈز کے نتائج میں کانگریس کو 20، بی آر ایس کو 14 نشستیں ملیں، جب کہ بی جے پی، مجلس اور آزاد امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی۔ حضور نگر کے 28 میں سے 19 وارڈز کانگریس کے حصے میں آئے، بی آر ایس کو چار نشستیں ملیں۔
نلگنڈہ ضلع کے متعدد بلدیات میں کانگریس نے کلین سوئپ کیا ہے اور کئی مقامات پر واضح اکثریت حاصل کی۔ گدوال میونسپلٹی میں 37 وارڈز میں کسی جماعت کو جادوئی ہندسہ حاصل نہیں ہوا۔ کانگریس 15، بی آر ایس 12 اور بی جے پی سات نشستوں کے ساتھ نمایاں ہیں۔ جنگام میں 30 وارڈز میں بی آر ایس 13 اور کانگریس 12 نشستوں کے ساتھ قریب قریب ہیں۔
ابتدائی طور پر اعلان شدہ بلدیات میں کانگریس اکثریت حاصل کرتی نظر آ رہی ہے، جب کہ بی آر ایس دوسرے نمبر پر ہے۔ بی جے پی کئی مقامات پر کھاتہ کھولنے میں کامیاب ہوئی ہے مگر مجموعی طور پر تیسرے نمبر پر ہے۔ کچھ بلدیات میں فاروَرڈ بلاک اور دیگر جماعتوں نے بھی کامیابی حاصل کی ہے۔
اپ ڈیٹ جاری۔۔۔


