بھونگیر: جامع مسجد جلال پور کی بے حرمتی پر مسلمانوں میں شدید غم و غصہ، تلنگانہ حکومت اور پولیس کے رویہ پر سخت برہمی، مجلس اور مجلس بچاؤ تحریک کے رہنماؤں کا شدید احتجاج

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے ضلع یادادری بھونگیر کے بوملارامارم منڈل کے گاؤں جلال پور میں واقع جامع مسجد میں نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے توڑ پھوڑ اور قرآنِ مجید کی بے حرمتی کا انتہائی سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس شرانگیز واقعہ پر ریاست بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور خاطیوں کے خلاف فوری و سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کی آدھی رات کو نامعلوم افراد مسجد میں داخل ہوئے، دیواروں اور کھڑکیوں کے شیشوں کو نقصان پہنچایا، وضوخانے اور بیت الخلاء کے دروازے توڑ دیے اور مائیک سسٹم کی چوری کی گئی۔ مسجد کے احاطے میں قرآنِ مجید کے نسخے بکھرے ہوئے پائے گئے۔ مقامِ سے شراب کی بوتلیں بھی برآمد ہوئیں، جس سے شرپسندوں کی گھناؤنی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے۔

یہ جامع مسجد 2018 میں جلال پور گاؤں میں تعمیر کی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سے قبل قریبی دیہات بنداکاڈی پلی اور تھمکنٹہ میں مسجد کی تعمیر کی کوششوں کی مخالفت کی گئی تھی، جس کے بعد جلال پور میں مسجد قائم کی گئی۔ مقامی افراد کے مطابق مسجد کی تعمیر کے بعد بھی اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سمیت مختلف امور پر اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔

اشتعال انگیزی کے خلاف کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کی قیادت نے بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اطلاع ملتے ہی اسدالدین اویسی نے رکن قانون ساز کونسل رحمت بیگ کو مسجد روانہ کیا۔ رحمت بیگ نے مسجد کا معائنہ کرنے کے بعد ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آکانکشا یادو سے ملاقات کر کے احتجاج درج کرایا اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر مقامی افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ نلگنڈہ کے مجلس صدر ایڈوکیٹ رضی الدین نے بھی اعلیٰ پولیس حکام سے رابطہ کر کے حالات سے آگاہ کیا اور فوری اقدامات کی اپیل کی۔

واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر فوجداری مقدمہ درج کر کے غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ممکنہ شواہد کو محفوظ کرنے میں کوتاہی برتی، جس سے اصل ملزمان تک پہنچنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب پولیس کے ایک عہدیدار نے انتہائی سنگین جرم کو کم تر قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ “صرف بیئر کی بوتلیں اندر پھینکی گئیں تھیں اور مسجد کو صاف کر دیا گیا ہے۔” تاہم مقامی افراد اور مسلم تنظیموں نے اس موقف پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پولیس کے اس متنازعہ بیان کو انتہائی تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ پولیس غنڈوں کو بچانے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق قرآنِ مجید کی بے حرمتی اور مسجد کو نقصان پہنچانا محض “شرارت” نہیں بلکہ سنگین مجرمانہ فعل ہے جسے کمتر بتانا سراسر غلط ہے۔

پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف بی این ایس کی دفعات 331(4) (گھر میں نقب زنی)، 329(4) (مجرمانہ دراندازی)، 298 (عبادت گاہ کی بے حرمتی)، 324(4) (نقصان پہنچانا) اور 196 (مذہب وغیرہ کی بنیاد پر عداوت کو فروغ دینا) کے تحت ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تین خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

مسلم رہنماؤں اور عوام کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ریاست کے مختلف علاقوں میں مساجد، مزارات اور مدارس اسلامیہ کے خلاف اشتعال انگیز واقعات پیش آئے، مگر سخت کارروائی نہ ہونے سے شرپسند عناصر کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت اور پولیس پر یکطرفہ کاروائی کرنے اور اکثریتی فرقہ کے تئین نرم رویہ اختیار کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں