حیدرآباد (دکن فائلز کی خصوصی رپورٹ) ملک بھر کے جید علمائے کرام، ائمہ مساجد اور دینی رہنماؤں نے 14 فروری کے موقع پر مسلم نوجوانوں اور والدین سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ ویلنٹائن ڈے جیسے غیر اسلامی تہوار سے مکمل اجتناب کریں اور خود کو اور اپنے اہل خانہ کو بے حیائی اور حرام تعلقات سے محفوظ رکھیں۔
علمائے کرام نے اپنے بیانات میں کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو پاکیزگی، حیا اور عفت و عصمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام میں مرد و عورت کے تعلقات کے واضح حدود و قیود مقرر ہیں، اور نکاح کے پاکیزہ رشتے کے علاوہ کسی بھی قسم کے ناجائز تعلق کو سختی سے حرام قرار دیا گیا ہے۔
اسلام میں بے حیائی کی سخت ممانعت
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰی اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَسَآءَ سَبِيلًا” (سورۃ بنی اسرائیل: 32)
ترجمہ: “اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔”
علمائے دین نے وضاحت کی کہ اسلام نہ صرف زنا کو حرام قرار دیتا ہے بلکہ اس کے اسباب اور ذرائع سے بھی دور رہنے کا حکم دیتا ہے، جیسے نامحرم سے آزادانہ میل جول، تنہائی، فحش گفتگو، فحش مواد کا تبادلہ اور بے پردگی۔
اسی طرح حدیث شریف میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: “حیا ایمان کا حصہ ہے۔” (صحیح بخاری)
اور ایک اور حدیث میں فرمایا: “جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔”
علمائے کرام نے کہا کہ یہ احادیث واضح کرتی ہیں کہ ایمان اور حیا لازم و ملزوم ہیں، اور جہاں بے حیائی عام ہو جائے وہاں ایمان کمزور پڑ جاتا ہے۔
ویلنٹائن ڈے اور مسلم معاشرہ
علمائے دین کا کہنا ہے کہ ویلنٹائن ڈے ایک غیر اسلامی تہوار ہے جس کی بنیاد مغربی معاشرتی روایات پر ہے، اور اس کے نام پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں غیر شرعی تعلقات، آزادانہ میل جول اور فحش سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے، مگر اسلام نے اس جذبے کو نکاح کے دائرے میں محفوظ کیا ہے۔ والدین کی اولاد سے محبت، شوہر اور بیوی کی باہمی محبت، بھائی بہنوں کی محبت اور انسانیت سے محبت — یہ سب جائز اور قابلِ تحسین ہیں۔ لیکن نکاح کے بغیر تعلقات کو “محبت” کا نام دینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
نوجوانوں اور والدین کے نام پیغام
علمائے کرام نے خاص طور پر نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوشل میڈیا، فلموں اور مغربی ثقافت کے دباؤ میں آکر اپنے دین، حیا اور خاندانی اقدار کو قربان نہ کریں۔ وقتی جذبات انسان کو ایسی راہوں پر لے جاتے ہیں جن کا انجام پشیمانی اور تباہی ہوتا ہے۔
ساتھ ہی والدین سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ اپنے بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت پر توجہ دیں، ان کی صحبت، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور دوستوں پر نظر رکھیں، اور محبت و حکمت کے ساتھ انہیں سمجھائیں۔ صرف روک ٹوک کافی نہیں بلکہ مضبوط دینی شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔
اجتماعی ذمہ داری
علمائے کرام نے تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور میڈیا سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایسے پروگراموں اور تقریبات کی حوصلہ شکنی کریں جو بے حیائی اور حرام تعلقات کو فروغ دیتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف اپنی ذات تک محدود نہیں بلکہ اسے اپنے گھر، خاندان اور معاشرے کی اصلاح کی بھی فکر ہونی چاہئے۔
دردمندانہ اپیل
علمائے کرام نے اپنے مشترکہ بیان میں کہاکہ “ہم مسلم نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ہر اس عمل سے بچیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضگی کا سبب بنے۔ خود بھی گناہ سے رکیں اور اپنے دوستوں، بہن بھائیوں اور گھر والوں کو بھی حرام کاموں سے روکیں۔ محبت کو نکاح کے پاکیزہ رشتے میں محفوظ رکھیں اور اپنی حیا کو اپنی پہچان بنائیں۔”
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو بے حیائی اور فتنوں سے محفوظ رکھے، نوجوان نسل کو دین پر استقامت عطا فرمائے اور ہمارے گھروں کو پاکیزہ، باحیا اور اسلامی اقدار کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔


