حیدرآباد (دکن فائلز) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں اسرائیل پر وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں کا آغاز کر دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس کارروائی کو ’’فتحِ خیبر‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے درجنوں بیلسٹک میزائل داغے گئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران سے تقریباً 30 بیلسٹک میزائل اسرائیل کی جانب فائر کیے گئے، جن میں سے کئی کو فضا ہی میں تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ میزائلوں کی نشاندہی ہوتے ہی شمالی اسرائیل، تل ابیب اور حیفہ سمیت مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو فوری طور پر پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت جاری کی گئی۔
اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ دفاعی نظام مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتا، اس لیے عوام کو ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ فضائیہ ممکنہ خطرات کو روکنے اور ضرورت پڑنے پر جوابی کارروائی میں مصروف ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے تصدیق کی کہ اسرائیل اور امریکہ کی ’’جارحیت‘‘ کے جواب میں میزائل اور ڈرون حملوں کی پہلی لہر شروع کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف حملوں کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا کہ اب صورتحال حملہ آوروں کے قابو میں نہیں رہی۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ ایران کا ردعمل ’’انتہائی سخت اور تباہ کن‘‘ ہوگا اور خودمختاری پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی اور غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تہران، اصفہان، تبریز، قم اور کرج میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ تہران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور بعض مقامات سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ اطلاعات کے مطابق مہرآباد ایئرپورٹ اور بعض سرکاری و عسکری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم جانی نقصان کی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے قریب حملہ ہوا، تاہم انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا اور وہ محفوظ ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے محفوظ رہنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ ان ممالک میں امریکی اڈوں کو بڑے پیمانہ پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بحرین میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں امریکی بحری بیڑے کی تنصیبات موجود ہیں، جبکہ قطر نے اپنی فضائی حدود میں بعض میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ متحدہ عرب امارات نے کشیدگی کے پیشِ نظر عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا۔
دوسری جانب قطر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملوں کے بعد بھی ملک میں سیکیورٹی صورتحال مکمل طور پر مستحکم اور محفوظ ہے۔ وزارت کے مطابق خصوصی سیکیورٹی ادارے چوبیس گھنٹے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور سیاحوں کی حفاظت یقینی بنائی جا رہی ہے۔
وزارتِ داخلہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر اعتماد کریں۔ غیر مصدقہ ویڈیوز اور پیغامات شیئر کرنے سے گریز کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
ادھر ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایرانی بحریہ کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔


