حیدرآباد (دکن فائلز): مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں حیدرآباد سمیت ریاست تلنگانہ میں ہوٹل مالکان اور عام شہریوں کو رمضان المبارک کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت نے حالیہ دنوں میں گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی قیمت میں بھی اضافہ کیا ہے۔ یکم مارچ کے بعد سے 14.2 کلوگرام گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں 60 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد دارالحکومت دہلی میں اس کی قیمت 853 روپے سے بڑھ کر 913 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح حیدرآباد میں قیمت 965 ہوگئی، ممبئی میں گھریلو سلنڈر کی قیمت 852.50 روپے سے بڑھ کر 912.50 روپے ہو گئی ہے۔
اسی کے ساتھ 19 کلوگرام کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں بھی 115 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس سے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور دیگر تجارتی اداروں کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
صنعتی ذرائع کے مطابق تلنگانہ کو ہر ماہ تقریباً سات سے ساڑھے سات لاکھ کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم بین الاقوامی سپلائی میں خلل کے باعث گیس کی دستیابی میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔ نجی گیس ڈسٹری بیوٹرز کے پاس عموماً صرف دو سے تین دن کا ذخیرہ ہوتا ہے اور موجودہ صورتحال میں یہ ذخائر تقریباً ختم ہونے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب سرکاری تیل کمپنیوں کے پاس تقریباً آٹھ سے دس دن کا ذخیرہ موجود ہے جس کی وجہ سے محدود پیمانے پر سپلائی جاری رکھی جا رہی ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایل پی جی کی فراہمی کو گھریلو صارفین کے لیے ترجیح دی جا رہی ہے، جس کے باعث کمرشل اور صنعتی صارفین کو گیس کی سپلائی عارضی طور پر معطل یا محدود کر دی گئی ہے۔
تلنگانہ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرس اسوشی ایشن کے عہدیداروں کے مطابق موجودہ ذخائر کو سب سے پہلے ہنگامی خدمات کے لیے مختص کیا جا رہا ہے۔ اسپتالوں، ہاسٹلز، یونیورسٹیوں اور دیگر اہم اداروں کو گیس کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ بنیادی خدمات متاثر نہ ہوں۔
رمضان المبارک کے دوران یہ صورتحال خاص طور پر تشویشناک بن گئی ہے کیونکہ حیدرآباد میں بڑی تعداد میں ہوٹل، ریسٹورنٹس اور فوڈ اسٹال روزہ داروں کے لیے افطار اور سحری کا انتظام کرتے ہیں۔ گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ کے باعث کئی ہوٹل مالکان کو اپنے کاروبار کو برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں جبکہ بعض افراد متبادل ذرائع جیسے لکڑی، ڈیزل یا برقی چولہوں کے استعمال پر غور کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے رمضان المبارک کے دوران عوام کی سہولت کے لیے شہر میں رات بھر دکانیں اور ہوٹل کھلے رکھنے کی اجازت دی ہے تاکہ روزہ دار افراد باآسانی خریداری اور کھانے پینے کی ضروریات پوری کر سکیں۔ چونکہ روزہ دار دن بھر روزے کی حالت میں رہتے ہیں اس لیے وہ عموماً رات کے اوقات میں خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔
تاہم کمرشل گیس سلنڈروں کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے باعث نہ صرف ہوٹل مالکان کو شدید مشکلات درپیش ہیں بلکہ عام شہریوں کو بھی افطار اور سحری کے انتظامات میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاجر برادری اور ہوٹل مالکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان کے پیش نظر گیس کی فراہمی کو جلد معمول پر لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ کاروبار اور عوامی سہولت متاثر نہ ہو۔


