حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں حالیہ دنوں پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات کے بعد پولیس کے مبینہ تشدد اور اختیارات کے غلط استعمال پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سماجی و سیاسی حلقوں نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
حیدرآباد کے مائسما گوڑہ میں پیش آیا جو پیٹ بشیرآباد پولیس اسٹیشن کے حدود میں آتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک نجی ہاسٹل میں مقیم چند طلبا نے مبینہ طور پر رات گئے شراب نوشی کے بعد سیکیورٹی گارڈ کے ساتھ جھگڑا کیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور حالات قابو میں کرنے کی کوشش کی۔
تاہم طلبا کا الزام ہے کہ پولیس نے معاملہ سلجھانے کے بجائے ہاسٹل کے کمروں میں گھس کر طلبا پر بلا وجہ لاٹھی چارج کردیا۔ متاثرہ طلبا کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا اور پولیس اہلکاروں نے انہیں نازیبا الفاظ میں گالیاں بھی دیں۔ اس واقعہ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد طلبا برادری میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
دوسرا سنگین واقعہ رائے درگم پولیس اسٹیشن سے متعلق سامنے آیا ہے جہاں رمضان کے مقدس مہینے میں تین مسلم نوجوانوں پر مبینہ تشدد کا الزام لگایا گیا ہے۔ شکایت کے مطابق محمد فضل الرحمن نامی نوجوان نے سائبرآباد پولیس کمشنر کو تحریری درخواست دیتے ہوئے بتایا کہ 8 مارچ کی رات تقریباً 12:20 بجے وہ اپنے دوست عبدالرحمن کے ساتھ ٹی ہب کے قریب کھڑا تھا جب ایک پولیس اہلکار نے مبینہ طور پر بلا وجہ اسے تھپڑ مارا اور اس کی موٹر سائیکل کی چابی چھین لی۔
محمد فضل الرحمن کے مطابق جب اس نے موبائل فون سے ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو ایک اور پولیس اہلکار نے اس کا موبائل چھین لیا اور دونوں نوجوانوں کو رائے درگم پولیس اسٹیشن آنے کا حکم دیا۔ بعد میں محمد فضل الرحمن اپنے دو دوستوں سید عریب اور محمد سہیل کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچا جہاں انہیں انتظار کرنے کو کہا گیا۔
شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ جب وہ پولیس اسٹیشن کے احاطے میں کھڑے تھے تو ایک اہلکار نے محمد سہیل کو تھپڑ مارا اور اس کا موبائل فون بھی چھین لیا۔ کچھ دیر بعد انسپکٹر پولیس رائے درگم وہاں پہنچے اور تینوں نوجوانوں کو دفتر کے اندر بلا کر ان کی شناختی دستاویزات چیک کیں۔ نوجوانوں کا الزام ہے کہ اس کے بعد پولیس اہلکاروں کو انہیں مارنے کا حکم دیا گیا اور انہیں ہاتھوں سے مارنے کے علاوہ ٹائر کی چپلوں اور جوتوں سے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کو زمین پر لٹا کر لاتوں سے مارا گیا اور ان کے مذہب کے حوالے سے نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔ اس دوران نوجوانوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ رمضان کے مقدس مہینے میں روزے سے ہیں لیکن اس کے باوجود مبینہ طور پر تشدد میں مزید شدت آ گئی۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ سید عریب حال ہی میں سر کے ٹیومر کی سرجری سے گزرے تھے اور ان کے کندھے اور ہاتھ میں فریکچر بھی تھا، اس کے باوجود پولیس نے ان کی حالت کا خیال نہیں کیا۔
اس معاملے پر مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان نے رائے درگم پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا اور واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں روزہ دار نوجوانوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک انتہائی افسوسناک اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
امجد اللہ خان نے سائبرآباد پولیس کمشنر سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو متعلقہ افسران کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متاثرین کو انصاف نہ ملا تو مجلس بچاؤ تحریک اس معاملے پر سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی۔
ان دونوں واقعات کے بعد شہری حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض امن و امان برقرار رکھنا ہے، نہ کہ عام شہریوں خصوصاً طلبا اور نوجوانوں کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد کرنا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔


