بلقیس بانو مقدمہ کے دو مجرمین کی درخواست سماعت کےلئے منظور، سپریم کورٹ نے گجرات اور مہاراشٹر حکومتوں سے جواب طلب کرلیا

حیدرآباد (دکن فائلز) 2002 کے بہیمانہ گجرات فسادات کے دوران پیش آئے بلقیس بانو مقدمہ میں ایک نئی بات سامنے آئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمہ میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے دو مجرموں کی جانب سے دائر اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے گجرات اور مہاراشٹرا کی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔

جسٹس راجیش بندال اور جسٹس وجئے بشنوئی پر مشتمل بنچ نے بپن چند کنہیا لال جوشی اور پردیپ رامان لال مودییا کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے دونوں ریاستوں سے جواب طلب کیا اور آئندہ سماعت 5 مئی 2026 کو مقرر کی۔

یہ اپیل بامبے ہائیکورٹ کے 4 مئی 2017 کے فیصلے کو چیلنج کرتی ہے، جس میں 11 ملزمان کو دی گئی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا گیا تھا۔ ان پر قتل، ہنگامہ آرائی اور اجتماعی عصمت ریزی جیسے سنگین جرائم ثابت ہوئے تھے۔

یہ کیس اس وقت کا ہے جب 27 فروری 2002 کو گجرات میں فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ اس دوران بلقیس بانو، جو اس وقت حاملہ تھیں، پر شدت پسند درندوں کے ایک ہجوم نے حملہ کردیا تھا، ان کے اہل خانہ کو قتل کیا اور ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد مقدمہ کی سماعت مہاراشٹر منتقل کی گئی جہاں خصوصی عدالت نے 2008 میں تمام 11 ملزمان کو سزا سنائی۔ 2022 میں گجرات حکومت نے ان مجرموں کو رہا کردیا تھا، تاہم جنوری 2024 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس کے بعد تمام مجرموں نے دوبارہ خودسپردگی کر دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں