مسلمانوں کے خلاف بیان دینے والے شیکھر کمار کو کوئی پچھتاوا نہیں! متنازعہ جج ریٹائر، کہا “میری باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا”

حیدرآباد (دکن فائلز) شیکھر کمار یادو، جو مسلمانوں کے حوالے سے اپنے متنازع بیانات کے باعث شدید تنقید کی زد میں تھے، چہارشنبہ کے روز ریٹائر ہو گئے۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ان کی تقریر کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور اصل قصور ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔

یہ تنازع دسمبر 2024 میں اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے وشوا ہندو پریشد کے ایک پروگرام میں تقریر کے دوران مسلمانوں سے متعلق متنازع اور اشتعال انگیز ریمارکس دیے تھے، جس پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔

ان کے خلاف پارلیمنٹ میں 50 سے زائد اپوزیشن اراکین نے مواخذے کی تحریک بھی پیش کی تھی، تاہم ان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی یہ معاملہ خود بخود ختم ہوگیا۔ انہیں مسلمانوں کے خلاف بیانات پر کوئی سزا نہیں ملی۔

اپنے الوداعی خطاب میں جسٹس یادو نے کہا کہ انہوں نے کبھی اپنے فیصلوں میں کسی بھی مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا اور ہمیشہ غیر جانبداری سے انصاف فراہم کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں