حیدرآباد (دکن فائلز) نئی دہلی: خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن اور نئی حلقہ بندی سے متعلق حکومت کا اہم آئینی بل لوک سبھا میں ناکام ہو گیا، کیونکہ یہ مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا۔ اس پیش رفت کو پارلیمانی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
ووٹنگ کے بعد اسپیکر اوم برلا نے اعلان کیا کہ بل آئینی تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بل کو واضح اکثریت حاصل ہونے کے باوجود آئینی ترمیم کے لیے درکار حمایت میسر نہ ہو سکی۔
بحث کے دوران قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل خواتین کے حقوق کے نام پر دراصل انتخابی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ذات پات کی مردم شماری سے بچنے کے لیے اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے، جس سے او بی سی، دلت اور اقلیتی طبقات کے حقوق متاثر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام ملک کی سیاسی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے، جسے انہوں نے “اینٹی نیشنل” قرار دیا۔ اس بیان پر حکمراں جماعت کے ارکان نے شدید احتجاج کیا، جبکہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ان ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا۔
پارلیمنٹ میں اس دوران شدید ہنگامہ آرائی ہوئی اور کئی مواقع پر کارروائی متاثر رہی۔ حکومتی مؤقف تھا کہ یہ بل خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے ایک تاریخی قدم ہے، تاہم اپوزیشن نے اسے سیاسی چال قرار دیا۔


