شیلانگ میں ہندوتوا شدت پسندوں نے مسجد کو بند کرنے پر مجبور کردیا! غیرقانونی و مجرمانہ حرکت کے بعد مسلم کمیونٹی میں خوف کا ماحول

حیدرآباد (دکن فائلز) میگھالیہ کے دارالحکومت شیلانگ میں ایک مسجد کو زبردستی بند کرانے کے واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے، جس سے مقامی مسلم برادری میں خوف اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یہ واقعہ لوئر لمپرنگ علاقے میں پیش آیا جہاں خاصی اسٹوڈنٹس یونین کے ارکان نے مبینہ طور پر ایک عمارت، جسے “لمپرنگ مسجد” کہا جاتا ہے، کو بند کرا دیا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی اور اس کے لیے متعلقہ حکام سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق، یونین کے ارکان ایک گروپ کی صورت میں آئے اور بغیر کسی سرکاری حکم کے وہاں موجود افراد کو مذہبی سرگرمیاں بند کرنے کا کہا۔ اس دوران مسجد کے امام کو بھی مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئیں اور انہیں فوری طور پر جگہ خالی کرنے کو کہا گیا۔

مقامی مسلم افراد کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک عمارت کا معاملہ نہیں بلکہ ان کے مذہبی حقوق اور آزادی کا مسئلہ ہے۔ ایک مقامی شخص نے کہا کہ اس واقعے کے بعد وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور انہیں اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کی فکر لاحق ہو گئی ہے۔

دوسری جانب کے ایس یو کے نمائندے شائننگ اسٹار چن نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ جگہ اصل میں قبرستان کے نگراں کے لیے مختص تھی، مگر بعد میں اسے بغیر اجازت مسجد کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو پہلے بھی اٹھایا گیا تھا اور مقامی “دوربار شنوگ” (روایتی ادارہ) نے بھی اس پر اعتراض کیا تھا۔

اگرچہ اس واقعہ میں کسی قسم کے تشدد کی اطلاع نہیں ملی، تاہم علاقہ میں کشیدگی برقرار ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تاحال ضلعی انتظامیہ یا پولیس کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جس پر مبصرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ڈھانچہ غیر قانونی ہے تو اس کے خلاف کارروائی صرف قانونی طریقہ کار کے تحت ہونی چاہیے، نہ کہ کسی گروہ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت دی جائے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اقلیتی برادریوں کے تحفظ، مذہبی آزادی اور قانون کی بالادستی جیسے اہم سوالات کو اجاگر کرتا ہے، جن پر فوری اور سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں