حیدرآباد (دکن فائلز) حج 2026 (1447ھ) کے لیے دنیا بھر میں تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جہاں سعودی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹس نے ضیوف الرحمن کے استقبال کے لیے مکمل تیاریوں کا اعلان کیا ہے، وہیں بھارت سمیت کئی ممالک سے عازمین حج کی روانگی کا باقاعدہ آغاز بھی ہوچکا ہے۔
دنیا بھر سے لاکھوں عازمین حج کے اس روحانی سفر کے آغاز کے ساتھ ہی سعودی عرب اور متعلقہ ممالک کی جانب سے کیے گئے منظم اور جدید انتظامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ضیوف الرحمن کی خدمت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، تاکہ وہ مکمل سکون اور یکسوئی کے ساتھ اپنے مناسک ادا کر سکیں۔
سعودی عرب کی جامع تیاریاں
سعودی پاسپورٹ حکام کے مطابق تمام فضائی، زمینی اور بحری راستوں پر عازمین حج کے داخلے کے عمل کو نہایت آسان اور تیز بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ سرحدی چوکیوں پر ایسے اہلکار بھی موجود ہیں جو مختلف زبانوں میں بات چیت کی صلاحیت رکھتے ہیں تاکہ دنیا بھر سے آنے والے عازمین کو کسی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
خانہ کعبہ کی کسوہ کی تبدیلی
دوسری جانب حرمین شریفین کے امور کی جنرل اتھارٹی نے خانہ کعبہ کے غلاف (کسوہ) کے نچلے حصے کو تین میٹر تک اٹھانے کا عمل مکمل کرلیا ہے۔ یہ عمل 34 ماہر کاریگروں نے تقریباً دو گھنٹوں میں انجام دیا، جس میں کسوہ کو کھولنا، اسے بلند کرنا اور سفید کپڑے سے ڈھانپنا شامل تھا۔ یہ اقدام ہر سال حج کے دوران ہجوم کے باعث کسوہ کو نقصان سے بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
روٹ ٹو مکہ پروگرام کی سہولت
سعودی وزارت داخلہ کے تحت جاری “روٹ ٹو مکہ” پروگرام بھی اس سال بھرپور انداز میں جاری ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے عازمین کی امیگریشن اور کسٹمز کلیئرنس ان کے اپنے ملک کے ایئرپورٹس پر ہی مکمل کرلی جاتی ہے، جس سے سعودی عرب پہنچنے پر انہیں دوبارہ مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا۔
2017 میں شروع ہونے والے اس پروگرام سے اب تک 12 لاکھ سے زائد عازمین فائدہ اٹھا چکے ہیں، جبکہ اس سال 10 ممالک کے 17 ایئرپورٹس اس سہولت میں شامل ہیں۔ پاکستان میں لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے ایئرپورٹس سے بھی عازمین اس سہولت سے مستفید ہوں گے۔
ہندوستان سے حج 2026 کا آغاز
ہندوستان میں بھی حج 2026 کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ پہلی پرواز 371 عازمین کو لے کر اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئی۔ اس موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں سعودی حج مشن کے نمائندے، دہلی حج کمیٹی اور وزارت اقلیتی امور کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
اس سال ہندوستان سے تقریباً 1,75,025 عازمین حج کی سعادت حاصل کریں گے، جبکہ ملک بھر کے 17 امبارکیشن پوائنٹس جن میں دہلی، ممبئی، لکھنؤ، حیدرآباد اور کولکاتا شامل ہیں سے پروازیں روانہ ہوں گی۔
انشورنس اور فلاحی اقدامات
ہر عازم کے لیے انشورنس کوریج بڑھا کر تقریباً 6.25 لاکھ روپے کردی گئی ہے، تاکہ سفر کے دوران طبی اور مالی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، رہائش، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور شکایات کے فوری ازالے کے نظام کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔
روحانی جوش و جذبہ
عازمین حج نے اس مقدس سفر پر روانگی کے موقع پر خوشی اور جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے، اور وہ تمام امت مسلمہ کے لیے دعا کریں گے۔


