حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے ناسک میں پیش آئے ٹی سی ایس معاملے نے جہاں ایک طرف ریاست بھر میں ہلچل مچا دی ہے، وہیں دوسری جانب اس واقعے کی میڈیا کوریج نے صحافتی ذمہ داریوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خاص طور پر وہ میڈیا ادارے جنہیں عام طور پر “گودی میڈیا” کہا جاتا ہے، اس معاملے کو جس انداز میں پیش کر رہے ہیں، وہ نہ صرف حقائق سے متصادم ہے بلکہ سماج میں نفرت اور تقسیم کو ہوا دینے کا سبب بھی بن رہا ہے۔
انقلاب کی رپورٹ کے مطابق سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ اس کیس میں درج کل 9 ایف آئی آرز میں سے کسی ایک میں بھی “تبدیلیٔ مذہب” کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود بعض ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ملزمین ایک منظم “کنورژن ریکیٹ” چلا رہے تھے اور غیر مسلم ملازمین کو جبراً مذہب تبدیل کروانے یا مخصوص غذائی عادات اپنانے پر مجبور کر رہے تھے۔ یہ بیانیہ نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ پولیس دستاویزات سے بھی اس کی کوئی تائید نہیں ہوتی۔
ملزمہ ندا خان کے وکیل ایڈوکیٹ بابا سید نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایف آئی آر میں صرف دو نوعیت کے الزامات درج ہیں: مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور جنسی ہراسانی۔ ان کے مطابق “9 ایف آئی آرز میں سے ایک میں بھی تبدیلیٔ مذہب کا کوئی ذکر نہیں ہے۔” اس بیان سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ میڈیا میں چلائی جا رہی کہانی حقیقت سے کہیں دور ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر پولیس کی ایف آئی آر میں تبدیلیٔ مذہب کا کوئی ذکر نہیں، تو پھر میڈیا اس بیانیے کو کیوں بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے؟ کیا یہ محض ٹی آر پی کی دوڑ ہے، یا اس کے پیچھے کوئی منظم ایجنڈا کارفرما ہے؟ ایسے سوالات آج کے میڈیا منظرنامے میں نہایت اہم ہو گئے ہیں، جہاں خبر اور پروپیگنڈہ کے درمیان لکیر دن بہ دن دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔
ادھر “ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس” (اے پی سی آر) کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے بھی اپنے دورۂ ناسک کے بعد یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ زمینی حقیقت اور میڈیا رپورٹنگ میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے ملزمین کے اہل خانہ، وکلاء اور دیگر متعلقہ افراد سے ملاقات کی اور اس بات پر زور دیا کہ کیس کو غیر جانبداری اور قانون کے مطابق ہی آگے بڑھایا جائے۔ ان کے مطابق کچھ بیرونی عناصر اس معاملے کو دانستہ طور پر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ صورتحال پولیس کے کردار پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ اگرچہ ایف آئی آر میں سنگین الزامات درج ہیں، لیکن میڈیا میں گردش کرنے والی گمراہ کن معلومات کی بروقت تردید نہ کرنا بھی ایک طرح کی غفلت تصور کی جا سکتی ہے۔ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف شفاف تحقیقات کرے بلکہ عوام کے سامنے درست معلومات بھی پیش کرے تاکہ افواہوں اور جھوٹے بیانیوں کا سدباب ہو سکے۔
اس پورے معاملے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ جب میڈیا اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی سچائی کی تلاش اور غیر جانبدار رپورٹنگ سے ہٹ جاتا ہے، تو اس کے اثرات محض ایک خبر تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے میں بداعتمادی، خوف اور نفرت کو جنم دیتے ہیں۔


