اہم خبر: دینی مدارس کی انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے ذریعہ جانچ پر سوالات، الہ آباد ہائی کورٹ کا یوگی حکومت سے جواب طلب

حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں تقریباً چار ہزار مدارس کی انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے ذریعہ کی جانے والی جانچ پر سوال اٹھاتے ہوئے ریاستی حکومت اور اے ٹی ایس سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔

جسٹس ارندم سنہا اور جسٹس ستیہ ویر سنگھ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ہدایت دی کہ تمام متعلقہ دستاویزات اور شواہد 4 مئی تک عدالت میں پیش کیے جائیں۔

عدالت نے ابتدائی طور پر مشاہدہ کیا کہ حکومت کے جاری کردہ احکامات میں نہ تو کسی مخصوص مدرسہ کا نام درج ہے اور نہ ہی مبینہ دہشت گرد فنڈنگ کے کوئی واضح شواہد یا تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

بنچ نے کہا کہ محض “شبہ” کی بنیاد پر اتنی بڑی تعداد میں مدارس کی جانچ کا کوئی مضبوط جواز نظر نہیں آتا۔

یہ معاملہ ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ یوپی اور مدرسہ فاروقیہ ندوہ کی انتظامیہ کمیٹی کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کے ذریعہ عدالت میں آیا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل وی کے سنگھ اور محمد علی اوصاف نے دلائل پیش کیے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اے ٹی ایس کو اس نوعیت کی عمومی تعلیمی جانچ کا اختیار حاصل نہیں، اور بینک اکاؤنٹس و مالی معاملات کی تفتیش بھی دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔

ریاستی حکومت نے بعض مدارس کی عمارتوں اور فنڈنگ کے ذرائع پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے اے ٹی ایس سے تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس دوران مدارس کے مالی لین دین، بینک اکاؤنٹس اور ممکنہ غیر ملکی فنڈنگ کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

تاہم مدرسہ تنظیموں نے اس کارروائی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور طلبہ کے مستقبل پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت اس سے قبل بھی 2022 میں ریاست بھر کے مدارس کا سروے کرا چکی ہے۔ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ اس کا مقصد مدارس کو جدید تعلیمی نظام سے جوڑنا ہے، جبکہ ناقدین اسے دباؤ اور نگرانی کا عمل قرار دیتے ہیں۔

عدالت نے ہدایت دی ہے کہ 4 مئی کو مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے اور اسی دن کیس کی دوبارہ سماعت ہوگی۔ عدالت کے ابتدائی مشاہدات نے اس پورے عمل کی قانونی حیثیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں