کرناٹک : علمائے کرام کے سیاسی شعور کو سلام: ’جیت دلانے کی طاقت اور ہرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں‘، کانگریس حکومت کو خبردار کردیا! (اہم و تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز) کرناٹک میں حکمراں کانگریس پارٹی اس وقت شدید داخلی دباؤ اور عوامی تنقید کا سامنا کر رہی ہے، جہاں مسلم قیادت کے خلاف تادیبی کارروائیوں اور مبینہ نظرانداز کیے جانے پر علماء کرام اور مسلم رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے بلکہ مسلم نمائندگی اور انصاف کے سوال کو بھی مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔

تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کانگریس نے چند مسلم رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی، جن میں ایم ایل سی عبدالجبّار کی معطلی اور نصیر احمد کو عہدے سے ہٹانا شامل ہے۔ ان اقدامات کو پارٹی نے “اینٹی پارٹی سرگرمیوں” کا نتیجہ قرار دیا، تاہم مسلم حلقوں میں اسے امتیازی سلوک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اسی معاملے نے داونگیرے جنوبی ضمنی انتخاب کے دوران ٹکٹ کی تقسیم پر پہلے سے موجود اختلافات کو مزید بڑھا دیا، جہاں مسلم اکثریتی علاقے میں مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہ دینے پر بھی ناراضگی سامنے آئی۔

کرناٹک کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور دینی رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کانگریس قیادت پر شدید تنقید کی اور اسے “ناانصافی” قرار دیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر پارٹی نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اس کے سیاسی نتائج سنگین ہوں گے۔

علماء نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ کانگریس کی حمایت کی ہے، مگر اب ان کی قیادت کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور منتخب نمائندوں کے ساتھ “سلیکٹو کارروائی” کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی روش جاری رہی تو “جس طرح مسلمانوں نے کامیاب بنایا، ویسے ہی ہرانا بھی جانتے ہیں” یہ بیان مسلم سیاسی شعور اور خودمختاری کی واضح علامت ہے۔

بڑھتے دباؤ کے پیش نظر کانگریس نے بھی صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈران، خاص طور پر ستیش جارکیہولی، کو مسلم برادری کو منانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ بعض فیصلوں پر نظرِ ثانی کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سدارامیا نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ٹکٹ کے فیصلے میں مقامی مسلم لیڈروں کو بھی شامل کیا گیا تھا، تاہم ناراضگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ اس معاملے نے کانگریس کے اندر بھی تقسیم کو نمایاں کر دیا ہے۔

اس پورے معاملے میں علماء کرام کا کردار نہایت اہم اور قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے نہ صرف برادری کے حقوق کی بات کی بلکہ سیاسی جماعتوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ ووٹ محض عدد نہیں بلکہ شعور ہے، قیادت کا احترام ضروری ہے اور انصاف کے بغیر حمایت ممکن نہیں۔

کرناٹک کی موجودہ صورتحال صرف ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ اقلیتوں کی نمائندگی، وقار اور انصاف کا سوال بن چکی ہے۔ علماء کرام کی مضبوط اور متحد آواز نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب مسلم قیادت کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں