حیدرآباد (دکن فائلز) ایران نے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں دو غیر ملکی بحری جہازوں پر قبضہ کرنے کی ویڈیو جاری کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی بحریہ کے مطابق ان جہازوں کو آبنائے ہرمز کے حفاظتی انتظامات کو خطرے میں ڈالنے پر تحویل میں لیا گیا اور بعد ازاں انہیں ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق قبضے میں لیے گئے جہازوں میں لائبیریا کا “ایپامینونڈاس” اور پاناما کا “ایم ایس سی فرانسسکا” شامل ہیں، جن پر ضروری اجازت ناموں کی عدم موجودگی اور نیویگیشن سسٹم میں مبینہ چھیڑ چھاڑ کا الزام ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ اہم سمندری گزرگاہ پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ یہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
دوسری جانب پنٹگان نے امریکی کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ طور پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں کم از کم چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس نوعیت کی کارروائی فوری طور پر شروع کیے جانے کا امکان نہیں اور اس کا انحصار ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی پر ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے بحرِ ہند میں ایک ایسے جہاز کے خلاف کارروائی کی جو مبینہ طور پر ایران کو معاونت فراہم کر رہا تھا۔ بیان کے مطابق یہ بغیر رجسٹری کا جہاز ایرانی تیل لے جا رہا تھا، جس کے خلاف کارروائی کی گئی۔
ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس اقدام کو سمندری قزاقی قرار دیا، تاہم یہ بھی کہا کہ چونکہ متاثرہ جہاز امریکی یا اسرائیلی نہیں تھے، اس لیے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے عارضی طور پر روکنے کے اعلان کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے امکانات غیر واضح ہیں۔ ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کو “اعلانِ جنگ” قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت ممکن ہے جب ناکہ بندی ختم کی جائے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غلیباف نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا ممکن نہیں، جبکہ عالمی برادری نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے سنگین اثرات عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور سپلائی پر مرتب ہوں گے۔


