کارپوریٹ جہاد کا شوشہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش! فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں اہم انکشافات (پورا ویڈیو ضرور دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) ناسک میں ٹی سی ایس سے متعلق معاملے میں ایک مخصوص طبقہ کے نوجوانوں کو نشانہ بنانے اور ان پر الزامات عائد کرنے کے خلاف اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس (اے پی سی آر) اور پیوپلز یونین فار سیول لیبرٹیز (پی یو سی ایل) نے جمعرات کو ممبئی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

اس موقع پر میڈیا ٹرائل، پولیس کے طریقہ کار اور مبینہ سازش پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی اور فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی جاری کی گئی۔ سینئر صحافی نرنجن ٹاکلے نے کہا کہ یہ پورا معاملہ ایک منظم سازش کا حصہ ہے، جسے ایک ہندوتوا نظریات رکھنے والی سیاسی جماعت کے رکن نے ترتیب دیا۔ انہوں نے بتایا کہ فروری میں پولیس کو شکایت دی گئی کہ ٹی سی ایس میں کام کرنے والی ایک غیر مسلم لڑکی روزے رکھ رہی ہے، حالانکہ یہ کوئی جرم نہیں کیونکہ کئی غیر مسلم خواتین بھی روزے رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس شکایت کو قبول کرتے ہوئے اپنی خواتین اہلکاروں کو بھیس بدل کر کمپنی میں تعینات کیا اور بعد ازاں 26 مارچ کو دیولالی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی، حالانکہ متعلقہ لڑکی خود شکایت درج کرانے کے لیے تیار نہیں تھی بلکہ اسے مبینہ طور پر ایک سیاسی لیڈر نے آمادہ کیا۔

نرنجن ٹاکلے کے مطابق ایف آئی آر میں دانش شیخ پر جنسی ہراسانی اور تبدیلیٔ مذہب کے الزامات، ندا خان پر مذہبی توہین اور آصف عطار پر بھی جنسی ہراسانی سمیت دیگر الزامات عائد کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ پولیس 15 دن تک یہ معلوم نہ کر سکی کہ متعلقہ لڑکی ایچ آر افسر نہیں بلکہ ایک عام ملازمہ تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دانش اور لڑکی کی ملاقات رضامندی سے ہوئی تھی اور دونوں کے درمیان سابقہ روابط بھی موجود تھے، جن کے شواہد پولیس نے حذف کر دیے تھے مگر بعد میں دوبارہ حاصل کر لیے گئے۔ ان کے مطابق کئی مسلم نوجوانوں کو، جنہیں کمپنی نے بہترین کارکردگی پر انعامات دیے تھے، اس کیس میں ملوث کر دیا گیا۔

معروف سماجی کارکن تیستا سیتلواد نے کہا کہ بڑے اداروں میں ایسے واقعات ہونا غیر معمولی نہیں، لیکن انہیں کسی مخصوص مذہب سے جوڑنا غلط ہے۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کرے۔ اے پی سی آر کے نیشنل سیکریٹری ندیم خان نے کہا کہ کسی کو زبردستی مذہب تبدیل کرانے یا روزہ رکھوانے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے اس کیس کی عدالتی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

پی یو سی ایل کی نمائندہ سندھیا گوکھلے نے کہا کہ اگر مہاراشٹر میں تبدیلیٔ مذہب قانون نافذ ہوتا تو اس کا مزید غلط استعمال ہو سکتا تھا۔ انہوں نے اس کیس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔ بامبے کیتھولک سبھا کے ترجمان ڈولفی ڈیسوزہ نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ معاملہ ناسک کے دیگر سنگین معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔

اے پی سی آر مہاراشٹر کے سکریٹری شاکر شیخ نے بتایا کہ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے دورے کے دوران علاقے میں خوف و ہراس پایا گیا، جس کی وجہ سے لوگ کھل کر سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کمشنر سندیپ کارنک سے ملاقات کر کے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور میڈیا ٹرائل روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کیس میں اب تک 9 ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں اور 7 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ یہ پورا معاملہ ایک مخصوص طبقہ کو بدنام کرنے کی منظم کوشش معلوم ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں