حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کی سیاست میں ایک بڑا اور چونکا دینے والا موڑ اس وقت سامنے آیا جب سابق رکنِ پارلیمنٹ اور بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر کی بیٹی کلواکنتلا کویتا نے اپنی نئی سیاسی جماعت “تلنگانہ راشٹر سینا(TRS) ” کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ یہ پیشرفت نہ صرف ریاستی سیاست میں نئی صف بندی کی علامت ہے بلکہ خاندانی اور سیاسی اختلافات کے کھل کر سامنے آنے کا بھی ثبوت ہے۔
کویتا نے حیدرآباد کے قریب منعقدہ ایک بڑے جلسے میں اپنی پارٹی لانچ کرتے ہوئے جذباتی خطاب کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ماضی میں حکومت کا حصہ رہیں اور بعض معاملات پر انہیں “شرمندگی” بھی ہے، جس پر انہوں نے عوام سے معافی مانگی۔
اپنی تقریر میں کویتا نے اپنے والد اور سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ پر غیر معمولی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قیادت عوامی مسائل سے دور ہو چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس نے تلنگانہ کی اصل روح کھو دی ہے اور کرپشن، خصوصاً کالیشورم پروجیکٹ جیسے معاملات پر سوال اٹھانے کی وجہ سے انہیں پارٹی سے الگ کیا گیا۔
انہوں نے موجودہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی حکومت کو بھی نشانہ بناتے ہوئے اسے ناکام قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی نئی پارٹی آئندہ دو برس میں اقتدار حاصل کرے گی۔
کویتا نے اپنی پارٹی کے نظریاتی پروگرام کو “پنچاجنیام” کا نام دیا، جس کے تحت کئی بڑے وعدے کیے گئے۔ ان میں سب سے نمایاں وعدہ نجی اسکولوں میں مفت تعلیم فراہم کرنا ہے، جسے انہوں نے سماجی انصاف کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ ریاست کے عوام کے مسائل حل کرنا اور “سماجی تلنگانہ” کی تشکیل ہے۔
کویتا کی نئی پارٹی کے نام “TRS” پر بی آر ایس نے طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر “اصلی اور نقلی” مصنوعات کی تصاویر شیئر کیں اور اشارہ دیا کہ اصل سیاسی شناخت صرف انہی کی پارٹی کے پاس ہے۔ اس ردعمل نے ریاستی سیاست کو مزید گرم کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ کویتا کو 2025 میں بی آر ایس سے “اینٹی پارٹی سرگرمیوں” کے الزام میں نکال دیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ ایک نئی سیاسی راہ اختیار کرنے کی تیاری کر رہی تھیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کویتا کی نئی پارٹی تلنگانہ کی سیاست میں ایک نیا رخ پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاست میں پہلے ہی بی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔
کویتا نے اپنی تقریر کے اختتام پر عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کی اس نئی سیاسی جدوجہد کا ساتھ دیں، جسے انہوں نے “عوام کی تحریک” قرار دیا۔


