تلنگانہ میں ایندھن کی قلت کی افواہیں، حکومت کی وضاحت کے باوجود پیٹرول پمپوں پر لمبی لمبی قطاریں، شہریوں میں تشویش کی لہر

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں پیٹرول اور ڈیزل کی ممکنہ قلت سے متعلق افواہوں نے شہریوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں کئی شہروں خصوصاً حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں پیٹرول پمپوں پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تاہم ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ تلنگانہ میں ایندھن کی کسی حقیقی کمی کا مسئلہ نہیں ہے اور سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے۔

ریاستی محکمہ شہری رسد کے کمشنر اسٹیفن رویندرا کے مطابق گزشتہ روز معمول سے کہیں زیادہ مقدار میں پیٹرول اور ڈیزل صارفین کو فراہم کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ کی اوسط طلب کے مقابلے میں اس بار سپلائی کہیں زیادہ رہی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست میں ذخائر کافی ہیں اور عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

حکام کے مطابق مسئلہ سپلائی کا نہیں بلکہ “پینک بائنگ” یعنی خوف کے باعث ضرورت سے زیادہ ایندھن خریدنے کا ہے۔ کئی شہری اپنی گاڑیوں کی معمول کی ٹینکی بھرنے کے بجائے اضافی مقدار میں پیٹرول خرید رہے ہیں، جبکہ بعض لوگ بوتلوں اور کین میں بھی ایندھن ذخیرہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے کئی پمپوں پر وقتی دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی خام تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا گیا کہ آنے والے دنوں میں ایندھن کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے۔ اگرچہ حکومت نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے، لیکن افواہوں نے عوام میں تشویش پیدا کر دی۔

بعض پیٹرول پمپ مالکان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی نئی پیشگی ادائیگی پالیسی نے بھی کچھ چھوٹے ڈیلرز کے لیے مسائل کھڑے کیے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے کریڈٹ پر سپلائی مل جاتی تھی، لیکن اب پیشگی ادائیگی کی شرط کے باعث کچھ پمپ وقتی طور پر اسٹاک برقرار رکھنے میں مشکلات محسوس کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ مقامات پر “نو اسٹاک” کے بورڈ بھی دیکھنے میں آئے۔

تلنگانہ حکومت نے صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے ضلعی حکام، پولیس اور آئل کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ رابطہ تیز کر دیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے، ذخیرہ اندوزی یا بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اسی دوران پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں بھی بعض علاقوں میں ایندھن کی دستیابی متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں کچھ پیٹرول پمپ عارضی طور پر بند ہوئے اور شہریوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ مرکزی حکومت نے بھی واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں اور درآمد کی فوری ضرورت نہیں۔

ریاستی حکومت نے شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ تلنگانہ میں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی سپلائی پوری طرح مستحکم ہے، اور عوام کے روزمرہ استعمال کے لیے خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے۔ عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں