گجرات بلدیاتی انتخابات میں مجلس کی شاندار کامیابی و غیر متوقع پیش قدمی

حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ایک نیا سیاسی رجحان سامنے آیا ہے، جہاں بیرسٹر اسدالدین اویسی کی کل ہند مجلس اتحاد المسلمین نے پہلی بار ریاست کے بعض علاقوں میں مؤثر انداز میں اپنی موجودگی درج کرا دی ہے، خاص طور پر کَچھ جیسے خطے میں پارٹی کی کامیابی نے سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ضلع کَچھ کی بھوج میونسپلٹی کے وارڈ نمبر ایک میں مجلس نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے تین نشستیں جیت لیں۔ پارٹی امیدوار سرفراز نے 3705، مختار نے 3581 اور روشن نے 3370 ووٹ حاصل کیے۔ ایک نشست کانگریس کے حصے میں آئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس علاقہ میں روایتی سیاسی توازن میں تبدیلی آ رہی ہے۔

اسی طرح بھروچ میں بھی مجلس نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا، جسے پارٹی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ نتائج اس بات کا اشارہ ہیں کہ مجلس اب صرف چند ریاستوں تک محدود نہیں رہی بلکہ مغربی ہندوستان میں بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری جانب بی جے پی نے کئی شہری علاقوں میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی۔ سورت کے وارڈ نمبر 19 اور احمد آباد کے سیج پور بوگھا علاقے میں بی جے پی پینل نے کامیابی حاصل کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری ووٹرز میں پارٹی کی مقبولیت بدستور قائم ہے۔

تاہم، کچھ مقامات پر اپ سیٹ بھی دیکھنے میں آیا۔ سورت کی جھانکوا تعلقہ پنچایت نشست پر کانگریس کے کشور چودھری نے بی جے پی امیدوار بھوانا واسوا کو 171 ووٹوں سے شکست دی۔ یہ علاقہ بی جے پی کے رکن اسمبلی گنپت سنگھ واسوا کے اثر و رسوخ میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس نتیجے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں