غزہ میں پانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے اسرائیل، صیہونی بربریت سے انسانی بحران شدید تر

حیدرآباد (دکن فائلز) بین الاقوامی طبی تنظیم میڈیسنس سینس فرنٹیئر (ایم ایس ایف) نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ میں پانی کی فراہمی کو ایک “ہتھیار” کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں انسانی بحران خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔

ایم ایس ایف کی تازہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے منظم انداز میں غزہ میں پانی اور صفائی کے نظام کو نشانہ بنایا، جس کے باعث لاکھوں افراد صاف پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانی کی فراہمی میں رکاوٹ، کنوؤں اور پائپ لائنوں کی تباہی اور امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ کئی علاقوں میں لوگ انتہائی کم مقدار میں پانی پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں، جس سے بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

عینی شاہدین اور امدادی اداروں کے مطابق بعض واقعات میں پانی حاصل کرنے والے شہریوں پر حملے بھی ہوئے، جس سے صورتحال مزید خراب ہوئی۔

دوسری جانب اسرائیل ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے، تاہم عالمی ادارے فوری طور پر پانی کی بحالی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں