حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات نے عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک اہم اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم مئی 2026 سے OPEC اور OPEC+ اتحاد سے باضابطہ طور پر دستبردار ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ ملک کی طویل المدتی معاشی حکمت عملی اور توانائی کے شعبے میں تیزی سے بدلتی ترجیحات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
اماراتی وزارتِ توانائی کے مطابق یہ فیصلہ جامع جائزے، پیداوار کی موجودہ و مستقبل کی صلاحیت، قومی مفادات اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک اب اپنی تیل پیداوار کی پالیسیوں میں زیادہ خودمختاری چاہتا ہے تاکہ عالمی طلب کے مطابق فوری اور مؤثر فیصلے کیے جا سکیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی طلب میں مسلسل اضافہ متوقع ہے، جبکہ خلیجی خطے خصوصاً آبنائے ہرمز میں جغرافیائی کشیدگی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایسے حالات میں امارات اپنی پیداوار بڑھانے اور برآمدات کو مستحکم رکھنے کے لیے زیادہ لچکدار پالیسی اپنانا چاہتا ہے۔
امارات نے واضح کیا ہے کہ اوپیک سے علیحدگی کے باوجود وہ ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد تیل پیدا کرنے والے ملک کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا۔ حکام کے مطابق ملک مارکیٹ کی طلب کے مطابق بتدریج اور محتاط انداز میں تیل کی پیداوار میں اضافہ کرتا رہے گا تاکہ عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
اوپیک سے علیحدگی کا یہ فیصلہ تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط تعلقات کے خاتمے کے مترادف ہے۔ OPEC کی بنیاد 1960 میں رکھی گئی تھی، جبکہ متحدہ عرب امارات 1967 میں اس کا رکن بنا تھا۔ اس دوران امارات تنظیم کے اہم اور بااثر ارکان میں شمار ہوتا رہا، اور خطے میں سعودی عربیہ کے بعد ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک رہا ہے۔
گزشتہ چند برسوں سے امارات اور اوپیک کے درمیان پیداواری کوٹے اور پالیسی معاملات پر اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ امارات اپنی پیداوار بڑھانے اور کوٹے میں نرمی کا خواہاں تھا، تاکہ اپنی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔
اماراتی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تیل و گیس کے ساتھ ساتھ قابلِ تجدید توانائی اور کم کاربن ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری جاری رکھی جائے گی۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف توانائی کے شعبے میں خودمختاری کو بڑھائے گا بلکہ معیشت کے تنوع اور پائیدار ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
ماہرین کے مطابق امارات کا اوپیک سے علیحدہ ہونا عالمی تیل منڈی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے پیداوار کے توازن، قیمتوں کے تعین اور توانائی کی جیوپولیٹکس پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم امارات نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ عالمی منڈی کے استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔


