حیدرآباد (دکن فائلز) قازقستان نے ایک اہم سفارتی پیش رفت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ Abraham Accords میں شمولیت اختیار کرے گا، جسے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق قازقستان کا یہ فیصلہ خطے میں سفارتی تعلقات کو فروغ دینے اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے تحت اسرائیل سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قازقستان کی شمولیت سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ وسطی ایشیا میں بھی نئی سفارتی صف بندیاں سامنے آسکتی ہیں، اور یہ قدم دیگر ممالک کو بھی ایسے معاہدوں میں شامل ہونے کی ترغیب دے سکتا ہے۔
ابراہام معاہدے دراصل ایسے سفارتی معاہدے ہیں جن کے تحت عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور قازقستان کی شمولیت اس عمل کو مزید وسعت دینے کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت عالمی سفارتکاری میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جہاں علاقائی مفادات کے تحت ممالک نئی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔


