حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 2026 کے دوسرے اور آخری مرحلے کی ووٹنگ کے دوران چہارشنبہ کے روز کئی مقامات پر تشدد، ہنگامہ آرائی اور ای وی ایم (الیکٹرانک ووٹنگ مشین) میں خرابی کے واقعات سامنے آئے، جس کے باعث انتخابی عمل متاثر ہوا اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزام تراشی میں شدت آگئی۔
ووٹنگ کے ابتدائی اوقات میں ہی مختلف اضلاع جیسے چپرا، شانتی پور اور بھنگر میں جھڑپوں اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ بعض مقامات پر سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم بھی ہوا، جبکہ ایک بی جے پی امیدوار اور پولنگ عملے کے درمیان تلخ کلامی کی بھی خبر سامنے آئی۔
اسی دوران ہاوڑہ سمیت کئی علاقوں میں ای وی ایم مشینوں میں تکنیکی خرابی کی شکایات موصول ہوئیں، جس کے باعث ووٹنگ کا عمل وقتی طور پر رک گیا اور ووٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ان واقعات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مرکزی سیکیورٹی فورسز پر بی جے پی کے حق میں کام کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ فورسز جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
دوسری جانب بی جے پی نے بھی حکمراں ترنمول کانگریس پر تشدد اور ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے کا الزام لگایا ہے۔ مختلف علاقوں میں پولنگ بوتھ پر ہنگامہ آرائی اور کارکنوں پر حملوں کی اطلاعات نے انتخابی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا۔
الیکشن کمیشن نے حساس علاقوں میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے ہیں، جہاں لاکھوں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کے عمل کو پرامن بنایا جا سکے۔
یہ مرحلہ 142 نشستوں پر مشتمل ہے اور اسے ریاست کی سیاست کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں حکمراں جماعت اور بی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔


