اہم خبر: 155 مدارس کے طلبا کی حراست پر ملک کے مسلمانوں میں غم و غصہ! دینی تعلیم کے سفر کو جرم بنا دیا گیا؟ معصوم بچوں کی اذیت پر سوالات

حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش میں ایک نہایت تشویشناک اور حساس معاملہ سامنے آیا ہے جہاں تقریباً 155 کمسن مسلم طلبا کو، جو تعلیم کے لیے مدارس جا رہے تھے، پولیس نے راستے میں روک کر حراست میں لے لیا۔ اس واقعہ نے نہ صرف والدین بلکہ انسانی حقوق کے حلقوں میں بھی شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ بچے، جن کی عمریں 6 سے 15 سال کے درمیان تھیں، بہار کے سیمانچل علاقہ سے مہاراشٹر اور کرناٹک کے مدارس جا رہے تھے۔ انہیں مدھیہ پردیش کے کٹنی ریلوے اسٹیشن پر گورنمنٹ ریلوے پولیس (GRP) نے روک لیا۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ انہیں شبہ تھا کہ بچوں کو چائلڈ ٹریفکنگ کے ذریعے مزدوری کے لیے لے جایا جا رہا ہے، جس کے بعد مقدمہ بھی درج کیا گیا۔

ان بچوں اور ان کے اساتذہ کو کٹنی اور جبلپور کے شیلٹر ہومز میں تقریباً دو ہفتوں تک رکھا گیا۔ اس دوران انہیں اپنے گھروں سے دور رکھا گیا، جس سے بچے شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار رہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ بچوں کے ساتھ ظلم ہے۔ ان کے مطابق اگر واقعی شک تھا تو فوری تصدیق کے بعد بچوں کو جانے دیا جا سکتا تھا، لیکن غیر ضروری طور پر انہیں روکے رکھا گیا۔

بہار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کئی والدین نے الزام لگایا کہ بچوں کو صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ مسلمان تھے اور مدارس میں تعلیم حاصل کرنے جا رہے تھے۔ والدین نے سوال اٹھایا کہ کیا صرف مدارس میں پڑھنے والے بچوں کو ہی مشکوک سمجھا جائے گا؟ اور کیا مذہبی شناخت اب جرم بن چکی ہے؟

انہوں نے اس واقعہ کو “کمیونل پروفائلنگ” قرار دیتے ہوئے آزادانہ تحقیقات اور معاوضے کا مطالبہ کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام نے “سوشل انویسٹی گیشن رپورٹ” کے نام پر طویل اور پیچیدہ عمل اپنایا، جس کی وجہ سے بچوں کی رہائی میں غیر ضروری تاخیر ہوئی۔

یہ سوال اہم ہے کہ کیا انتظامیہ کے پاس بچوں کی فوری شناخت اور تصدیق کا کوئی مؤثر نظام نہیں؟ اور اگر نہیں، تو اس کا خمیازہ معصوم بچوں کو کیوں بھگتنا پڑا؟

یہ واقعہ نہ صرف انتظامی ناکامی بلکہ بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا حق ہے، لیکن یہاں بچوں کے تعلیمی سفر کو ہی مشکوک بنا دیا گیا۔

مسلم دانشوران نے بتایا کہ ایسے اقدامات بچوں میں خوف پیدا کرتے ہیں، والدین کو اپنے بچوں کو باہر تعلیم کے لیے بھیجنے سے روک سکتے ہیں اور معاشرے میں عدم اعتماد کو بڑھاتے ہیں۔ یہ معاملہ کئی سنگین سوالات چھوڑ گیا ہے کہ کیا پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا؟، کیا بچوں کے ساتھ انسانی سلوک کیا گیا؟ اور کیا مذہب کی بنیاد پر امتیازی رویہ اختیار کیا گیا؟

اگر واقعی یہ کارروائی صرف شبہ کی بنیاد پر تھی، تو پھر دو ہفتوں تک بچوں کو حراست میں رکھنا کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں