الحمدللہ! ثم الحمدللہ!
لندن کی سرزمین ایک بار پھر اس حقیقت کی گواہ بنی کہ جب حق پوری قوت، اخلاص اور استقامت کے ساتھ پیش کیا جائے تو باطل کے پردے خود بخود چاک ہو جاتے ہیں۔
قادیانیت، جس کی بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوؤں پر رکھی گئی، صدیوں سے امتِ مسلمہ کے اجماعی عقیدۂ ختمِ نبوت کے مقابل ایک فکری چیلنج کے طور پر موجود رہی ہے، مگر ہر دور میں اہلِ حق نے دلیل، علم اور حکمت کے ذریعے اس کے دجل و فریب کو بے نقاب کیا ہےاور یہی منظر لندن میں ایک بار پھر دہرایا گیا۔
سات گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے اس طویل اور جامع مکالمہ میں، جب اہلِ اسلام کے نمائندہ حضرات نے نہایت مضبوط دلائل، شائستہ اسلوب اور حکیمانہ انداز میں دینِ اسلام کا مؤقف پیش کیا، تو سننے والوں پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی چلی گئی کہ حق اپنی بنیاد میں کتنا مضبوط اور باطل کتنا کمزور ہے۔
مکالمہ ابھی اپنے اختتام کو بھی نہ پہنچا تھا کہ بوکھلاہٹ کے آثار ظاہر ہونے لگے، اور لائیو نشریات کو کاپی رائٹ کے نام پر بند کرنے کی کوشش کی گئی،مگر یہ اقدام خود اس بات کا اعلان تھا کہ دلیل کے میدان میں کمزوری کس طرف ہے۔
اس تمام منظر نے یہ ثابت کر دیا کہ:
ختمِ نبوت کے پہرے دار آج بھی بیدار ہیں،
ناموسِ رسالت ﷺ کے پروانے آج بھی زندہ ہیں،
اور حق کا قافلہ آج بھی پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے
ہم مسلمانانِ عالم کی جانب سے جناب عدنان رشید صاحب حفظہ اللہ اور جناب محمد امتیاز صاحب حفظہ اللہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے بصیرت، حکمت اور علمی وقار کے ساتھ دینِ اسلام کا مؤقف پیش کیا، اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی بھرپور ترجمانی کی۔
ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس عظیم جدوجہد کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اسے مزید خیر و ہدایت کا ذریعہ بنائے، اور اس کے ذریعے بھٹکے ہوئے دلوں کو حق کی طرف رجوع کی توفیق عطا فرمائے۔ اللهم أرنا الحق حقًا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه آمین۔۔۔
از: مولانا محمد وجیہ الدین قاسمی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ تلنگانہ و آندھراپردیش


