تعلیم کے نام پر ہم اپنے بچّوں کو مذہبی و فکری ارتداد کے حوالہ نہیں کر سکتے: مجلس تحفظ ختم نبوت کا جلسہ عام، مولانا انیس آزاد بلگرامی اور مولانا محمد عبدالقوی کے خطابات

حیدرآباد (دکن فائلز) مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ تلنگانہ وآندھراپردیش کے زیر اہتمام مسجد اکبری اکبر باغ میں’’مذہبی و فکری ارتداد کا سدّ باب کیوں اور کیسے؟‘‘ کے عنوان پر جلسہ عام منعقد ہوا، اس موقع پر مہمان خصوصی ممتاز عالم دین مولانا انیس احمد آزاد بلگرامی نقشبندی بانی و شیخ الحدیث سید المدارس نئی دہلی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ ایک مسلمان کے لیے سب سے اہم اور بنیادی چیز عقیدہ و ایمان کی سلامتی ہے اور اس کے فکر و نظر کا صحیح ہونا ہے، اس کے بعد اعمال و اخلاق کا نمبر ہے، محض نیک اعمال اور اچھے اخلاق کی وجہ سے کسی کی ہدایت اور نجات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، ہدایت اور نجات کا معیار اسلام سے وابستگی اور ایمان پر ثابت قدمی ہے، اگر کوئی مسلمان اسلام کے بنیادی عقیدوں کے خلاف کسی غلط اور گمراہ عقیدہ کو قبول کرتا ہے، تو نمازیں پڑھنے اور تمام ارکان اسلام پر عمل کرنے کے باوجود اس کو خارج اسلام ہی مانا جائے گا، کیونکہ اسلام سچے اور صحیح عقیدہ کو ماننے کا نام ہے نہ کہ محض اچھے اخلاق اور نیک اعمال کرنے کا نام ہے، اسی لیے اخرت میں اعمال صالحہ نجات و کامیابی کے لیے اسی وقت سہارا بنیں گے جب ساتھ میں ایمان بھی ہو۔

مولانا نے کہا مذہبی و فکر ی ارتداد کے سد باب کے لیے سب سے اہم چیز قرآن مجید کی تلاوت کرنا ہے، اس کو سمجھ کر پڑھنا ہے، قران فہمی کا ذوق اور مزاج ہم اپنے اندر پیدا کریں، کیوں کہ خود قرآن مجید میں اللّٰہ تعالی نے فرمایا: یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے اور یہ نسخہ شفا بھی ہے، جو بھی مسلمان بغیر کسی شک و شبہ کے سچے دل اور پورے یقین کے ساتھ قران مجید کو سمجھ کر پڑھے گا، تو یہ اس کے لیے تمام روحانی و اعتقادی بیماریوں سے شفا یابی کا ذریعہ ہے، آج مسلم معاشرہ کے نوجوان اسلامی عقائد و تعلیمات میں شکوک و شبہات کے ذریعہ مذہبی و فکری ارتداد میں اس لیے مبتلا ہو رہے ہیں کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ہر کس و ناکس کے دینی و مذہبی بیانات کو سننے کی عادت بنا لی ہیں، حالاں کہ انہیں دیکھنا چاہیے کہ جس کا وہ بیان سن رہے ہیں اس کا علمی لیول کیا ہے، اس کا علم و فہم کا رشتہ کہاں جا کر ملتا ہے، اگر اس شخص کا علم و فہم کا سلسلہ بزرگان دین اور صحابہ کرام رض سے ہو کر نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلّم کی ذات گرامی سے جا ملتا ہے تو پھر اس کا علم و فہم ہمارے لیے قابل قبول ہے، اگر نہیں ہے تو ہم ایسے شخص کے بیانات کو سن کر اپنے ایمان کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتے۔

مولانا محمد عبدالقوی خازن مجلس تحفظ ختم نبوت و ناظم ادارہ اشرف العلوم نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا : نوجوانوں کو مذہبی و فکری ارتداد سے بچانا صرف علماء کی ذمہ داری نہیں ہے، علماء تو اپنی بساط بھر کوششیں کر رہے ہیں ،جگہ جگہ دینی تعلیمی مکاتب کا نظام چلا کر مسلمان بچوں میں عقائد کی پختگی پیدا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ خود نوجوانوں کے والدین اور سرپرستوں کو بھی اس سلسلہ میں بہت زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت ہے، ہم معیاری تعلیم کے نام پر اسٹینڈرڈ اور برانڈڈ اسکولوں اور کالجوں میں اپنے بچوں کو داخلہ دلوا رہے ہیں، لیکن وہاں انہیں اسمبلی میں پوجا کرنے پر ، پرساد کھانے پر اور وندے محترم گانے پر مجبور کیا جا رہا ہے، نہ صرف بچّوں کو بل کہ خود مسلم اساتذہ کو بھی ، پھر کلچر پروگرام کے نام پر مسلمان بچوں کو دیوی دیوتاؤں کا کردار دیا جا رہا ہے، اس طرح غیر محسوس طریقہ پر عقیدہ توحید کی اہمیت وعظمت ان کے ذہن و دماغ سے مٹائی جا رہی ہے اور شرک و بت پرستی کو ان کے لیے قابل قبول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے پھر جب ہمارے بچّے عمر کا بڑا حصہ اس طرح کے تعلیمی اداروں میں گزارتے ہیں تو ان میں عقید ہ و ایمان کی پختگی باقی نہیں رہتی وہ اپنے اپ کو لیبرل مسلمان کہنے کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں ،اس لیے ہمیں واضح اور دو ٹوک فیصلہ کرنا چاہیے کہ اچھی اور معیاری تعلیم کے نام پر ہم اپنے بچّوں کے ایمان کا سودا نہیں کر سکتے اور نہ مشہور برانڈڈ اسکولوں میں معیاری تعلیم کو سامنے رکھ کر اپنی نئی اور نو خیز نسل کو مذہبی و فکری ارتداد کے حوالے کر سکتے ہیں۔

قبل ازیں حافظ عبداللّٰہ ثمال متعلم اول عربی معہد اشرف اکبر باغ کی تلاوت سے جلسہ کا آغاز ہوا حافظ محمد مدثر متعلم معہد اشرف اکبر باغ نے ہدیہ نعت پیش کی، اس موقع پر مولانا محمد ارشد علی قاسمی سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا حافظ محمد غوث رشیدی ناظم مدرسہ تجوید القران ، شہر کے دیگر علماء کرام اور عوام بھی موجود تھی، مولانا انصار اللّٰہ قاسمی آرگنائزر مجلس تحفظ ختم نبوت میں جلسہ کی کاروائی چلائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں