حیدرآباد (دکن فائلز) ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور عالمی حالات کے تناظر میں امریکی سیاست میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے، جب پیٹ ہیگسیتھ سے کانگریس کی سماعت کے دوران صدر ٹرمپ کی “ذہنی استحکام”کے بارے میں براہ راست سوال کیا گیا۔
یہ سوال ڈیموکریٹ رکن کانگریس سارا جوکوبس نے کیا، جنہوں نے پوچھا کہ آیا ٹرمپ بطور کمانڈر انچیف ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ذہنی طور پر مستحکم ہیں یا نہیں۔ اس سوال پر پیٹ ہیگستھ نے سیدھا جواب دینے کے بجائے سابق صدر بائیڈن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہی سوالات بائیڈن سے بھی کیے گئے تھے۔
ہیگستھ نے قدرے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “میں صدر کے خلاف اس سطح کی توہین آمیز گفتگو میں شامل نہیں ہوں گا۔” بعد ازاں انہوں نے ٹرمپ کو “ایک شاندار کمانڈر انچیف” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ امریکی فوجیوں کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ بحث صرف سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس دوران امریکی دفاعی بجٹ 2027 پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ہیگستھ نے تقریباً **1.5 ٹریلین ڈالر** کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ امریکی فوج کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرے گا، جدید ہتھیاروں، صنعتی صلاحیت اور فوجیوں کی فلاح پر توجہ دی جائے گی، جونیئر اہلکاروں کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جائے گا اور ناکارہ فوجی رہائش گاہوں کو ختم کیا جائے گا۔
انہوں نے اس بجٹ کو امریکی فوجی طاقت کی “نئی بنیاد” قرار دیا۔ ادھر صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا بیانات نے بھی تنازع کو ہوا دی ہے۔ بعض پوسٹس میں انہوں نے ایران کو سخت دھمکیاں دیں، ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران نے مطالبات نہ مانے تو “ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے” اور ایک اے آئی تصویر بھی شیئر کی گئی جس میں وہ خود کو مسیح جیسی شخصیت کے طور پر دکھا رہے تھے۔
ان بیانات کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں ان کی ذہنی کیفیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، خاص طور پر جب ایران کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔


