مسلم خاندان کے چار افراد کی موت! تربوز نہیں بلکہ زہر اصل وجہ؟ چونکا دینے والے انکشافات سامنے آگئے

حیدرآباد (دکن فائلز) ممبئی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی پراسرار ہلاکت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ابتدائی طور پر تربوز کھانے کو موت کی وجہ قرار دیا جا رہا تھا، مگر اب تحقیقات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، جنوبی ممبئی کے ایک خاندان نے رات کے کھانے کے بعد تربوز کھایا، جس کے چند گھنٹوں بعد سب کی طبیعت بگڑ گئی۔ متاثرہ افراد کو قے، اسہال اور شدید کمزوری کی شکایات ہوئیں اور تقریباً 12 گھنٹوں کے اندر چاروں افراد دم توڑ گئے۔

ابتدائی شبہ یہی تھا کہ تربوز میں زہریلا مادہ یا بیکٹیریا موجود تھا، تاہم تازہ تحقیقات نے اس مفروضے کو کمزور کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران متاثرین کے جسم کے کچھ اعضاء سبز رنگ میں تبدیل پائے گئے، جو کسی زہریلے کیمیکل یا مادے کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔

مزید اطلاعات کے مطابق، ایک متاثرہ شخص کے جسم میں مورفین جیسے مادے کے آثار بھی ملے ہیں، جس سے شبہ مزید گہرا ہو گیا ہے کہ یہ معاملہ عام فوڈ پوائزننگ نہیں بلکہ ممکنہ زہر خورانی کا ہو سکتا ہے۔

اس واقعے کے بعد شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور تربوز کی فروخت بھی متاثر ہوئی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجہ لیبارٹری رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

ڈاکٹروں کے مطابق، اگرچہ گرمیوں میں کٹے ہوئے پھلوں میں بیکٹیریا پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن اس کیس میں صورتحال غیر معمولی دکھائی دیتی ہے، اس لیے مکمل تحقیق کے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

اس کیس میں مزید تفصیلات آنی ابھی باقی ہے۔ تحقیقات جاری ہے اور فائنل رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں