“آبنائے ٹرمپ” بیان پر ایران کا سخت ردعمل، عباس عراقچی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لے لیا

حیدرآباد (دکن فائلز) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کے نام سے متعلق تنازع کو غیر سنجیدہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک ایسا نقشہ شیئر کیا گیا جس میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مبینہ طور پر “آبنائے ٹرمپ” کے نام سے ظاہر کیا گیا۔ اس اقدام پر ایران کی جانب سے فوری اور سخت ردعمل سامنے آیا۔

عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے بیان میں نہ صرف امریکی صدر کے مؤقف پر تنقید کی بلکہ ان کی ایک پرانی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے غلطی سے آبنائے ہرمز کو “آبنائے ٹرمپ” کہا تھا اور بعد میں اسے اپنی لغزش قرار دیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی جغرافیائی مقامات کے نام تاریخی، قانونی اور بین الاقوامی حیثیت رکھتے ہیں، لہٰذا ان میں من مانی تبدیلی یا غلط استعمال نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ خطے میں غیر ضروری کشیدگی کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ “خلیج فارس” اور آبنائے ہرمز جیسے ناموں کو مسخ کرنا کسی طور قابل قبول نہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کا تنازع عالمی سطح پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں