عوامی زمین پر نماز پڑھنا صحیح نہیں! امن متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو حکومت پیشگی اقدامات کرسکتی ہے: الہ آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) سیکولر ملک ہندوستان میں مذہبی آزادی اور عوامی نظم و نسق کے درمیان توازن سے متعلق ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں الہ آباد ہائیکورٹ نے واضح کیا ہے کہ عوامی مقامات کو کسی بھی مذہبی اجتماع چاہے وہ نماز ہو یا دیگر بڑے پیمانے کے مذہبی پروگرام کے لیے بطور حق استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہندوستانی آئین کے تحت دی گئی مذہبی آزادی ایک بنیادی حق ضرور ہے، لیکن یہ مطلق (Absolute) نہیں ہے۔ اس پر عوامی امن، اخلاقیات اور دیگر شہریوں کے حقوق جیسے عوامل کے تحت معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

یہ فیصلہ جسٹس گریما پرساد اور جسٹس سرل شریواستو پر مشتمل بنچ نے سنبھل ضلع کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سنایا۔

یہ معاملہ ریاست اترپردیش کے ضلع سنبھل کے ایک گاؤں “اکاؤنا” سے متعلق ہے، جہاں “اسین” نامی شخص نے عدالت سے اجازت طلب کی تھی کہ وہ ایک مخصوص زمین پر نماز ادا کر سکے۔

درخواست گزار کا دعویٰ تھا کہ مذکورہ زمین اسے ایک گفٹ ڈیڈ کے ذریعے حاصل ہوئی ہے، اور مقامی انتظامیہ بلاجواز اسے وہاں نماز ادا کرنے سے روک رہی ہے۔

ریاستی حکومت نے عدالت میں اس دعوے کی سختی سے مخالفت کی۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ ریونیو ریکارڈ کے مطابق یہ زمین ‘آبادی زمین’ (Abadi Land) ہے، جو عوامی استعمال کے لیے مختص ہے- درخواست گزار کی پیش کردہ گفٹ ڈیڈ میں زمین کی واضح اور قابلِ تصدیق تفصیلات موجود نہیں-

حکومت کے وکیل کے مطابق ماضی میں صرف عید کے موقع پر وہاں نماز ادا کی جاتی تھی، جس پر کوئی پابندی نہیں تھی، تاہم اب درخواست گزار روزانہ اجتماعی نماز کے لیے دوسرے دیہات کے افراد کو بھی مدعو کرنا چاہتا ہے، جس سے مقامی سطح پر کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر کسی سرگرمی سے عوامی امن متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو حکومت کو پیشگی اقدامات کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

بنچ نے مزید کہا کہ درخواست گزار اپنی ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہا، ذاتی عبادت اور بڑے پیمانے پر اجتماعی مذہبی سرگرمیوں میں واضح فرق ہے۔ اجتماعی سرگرمیاں ریاستی ضوابط اور اجازت کی پابند ہوتی ہیں، خاص طور پر جب وہ عوامی یا متنازع زمین پر ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں