حیدرآباد (دکن فائلز) ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال کے بعد سے امریکی صدر ٹرمپ کے مسلسل بدلتے بیانات نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایک طرف وہ امریکی کانگریس کو خط لکھ کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی ختم ہو چکی ہے، تو دوسری جانب مختلف تقاریر میں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جنگ ابھی جاری رہ سکتی ہے اور وہ اپنے مقاصد کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ٹرمپ کے ان متضاد بیانات کو مبصرین “پل میں تولہ، پل میں ماشہ” سے تعبیر کر رہے ہیں، جس کے باعث نہ صرف عالمی سیاست میں ابہام پیدا ہو رہا ہے بلکہ خود امریکا کے اندر بھی ان کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایک ہی معاملے پر بار بار متضاد مؤقف اپنانا کسی بھی بڑی عالمی طاقت کے لیے غیر معمولی اور تشویشناک ہے۔
امریکی صدر نے کانگریس کے رہنماؤں کو لکھے گئے خط میں دعویٰ کیا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی ایران کے ساتھ کشیدگی اب ختم ہو چکی ہے، تاہم اسی خط میں یہ اعتراف بھی کیا کہ تنازعہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور جنگ دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس فلوریڈا میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ایران کے خلاف کارروائیاں نہیں روکے گا۔
ان بیانات کے تضاد نے عالمی سطح پر ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: کیا دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر کا اس طرح غیر یقینی اور متغیر رویہ قابل قبول ہے؟ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرزِ حکمرانی سے نہ صرف عالمی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے بلکہ حساس خطوں میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
ادھر بعض حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات ان کی ذہنی کیفیت پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر رہے ہیں، کیونکہ ایک ہی معاملے پر مسلسل متضاد مؤقف اختیار کرنا سفارتی سنجیدگی کے برخلاف سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم ٹرمپ کی سخت اور متغیر پالیسی نے اس عمل کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔


