حیدرآباد (دکن فائلز) 2026 کے اہم ریاستی اسمبلی انتخابات کے نتائج کے لیے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو چکا ہے، جس کے ساتھ ہی سیاسی درجہ حرارت عروج پر پہنچ گیا ہے۔ ملک کی بڑی ریاستوں بشمول مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالا، آسام اور پڈوچیری میں ہونے والے ان انتخابات کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ان کے نتائج نہ صرف ریاستی سیاست بلکہ قومی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
ووٹوں کی گنتی کا عمل الیکشن کمیشن کی سخت نگرانی میں صبح سویرے شروع ہوا۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ہر کاؤنٹنگ سینٹر پر سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی جاری ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (EVMs) اور وی وی پی اے ٹی (VVPAT) پرچیوں کی جانچ بھی عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
سب سے زیادہ توجہ مغربی بنگال پر مرکوز ہے جہاں حکمران جماعت ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے جبکہ بی جے پی ریاست میں اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی ان انتخابات کو اپنی پالیسیوں پر عوامی اعتماد کا امتحان قرار دے رہی ہے۔
تمل ناڈو میں علاقائی جماعتوں کے درمیان روایتی مقابلہ جاری ہے جہاں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔ کیرالا میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ اور یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے جبکہ آسام میں بی جے پی اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔
ابتدائی رجحانات کے مطابق مختلف ریاستوں میں کانٹے کا مقابلہ جاری ہے اور کئی نشستوں پر معمولی فرق کے ساتھ امیدوار آگے پیچھے ہو رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حتمی نتائج آنے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے اور صورتحال کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف مستند ذرائع سے ہی نتائج پر یقین کریں اور افواہوں سے گریز کریں۔ نتائج کا اعلان مرحلہ وار کیا جا رہا ہے اور ہر اپڈیٹ کے ساتھ سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہوتا جا رہا ہے۔
یہ انتخابات اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ یہ آنے والے عام انتخابات سے قبل عوامی رجحانات کا ایک اہم اشارہ فراہم کریں گے۔ تمام بڑی سیاسی جماعتیں نتائج کے بعد اپنی حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہوں گی۔
ملک بھر میں سیاسی کارکنان اور عوام بے چینی سے حتمی نتائج کا انتظار کر رہے ہیں، جبکہ مختلف شہروں میں پارٹی دفاتر کے باہر جشن اور احتجاج دونوں کے امکانات موجود ہیں۔ آنے والے چند گھنٹے ہندوستانی سیاست کے لیے نہایت فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔


