’آئی لو محمد‘ پوسٹ پر مقدمہ اور 7 ماہ سے جیل میں قید رکھا گیا! مسلم نوجوان کو ملی ضمانت

حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں سوشل میڈیا پوسٹ کے معاملے میں گرفتار مسلم نوجوان کو 7 ماہ بعد ضمانت دے دی ہے، جس نے “I Love Mohammed” کے عنوان سے انسٹاگرام پر پوسٹ کیا تھا۔

یہ واقعہ اترپردیش کا ہے، جہاں مذکورہ نوجوان کو محض اس لئے گرفتار کیا گیا تھا کہ اس نے انسٹاگرام پر آئی لو محمد پوسٹ کو شیئر کیا تھا۔ اس کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

عدالت میں سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کی پوسٹ میں کسی بھی طبقے کے خلاف نفرت یا تشدد کی ترغیب نہیں دی گئی، بلکہ یہ صرف ایک مذہبی عقیدت کا اظہار تھا۔ عدالت نے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں مزید حراست ضروری نہیں اور ملزم کو ضمانت دی جا سکتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محض مذہبی عقیدہ کے اظہار کو جرم قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک اس میں اشتعال انگیزی شامل نہ ہو۔ اس کے برعکس سوشل میڈیا پر متعدد ہندوتوا شدت پسندوں کی جانب سے کھلے عام مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز اور نفرت انگیز پوسٹ، ویڈیوز اور بیانات کو شیئر کیا جاتا ہے لیکن اس طرح کی ناپاک و غیرقانونی حرکت کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں