حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال کی سیاست میں بڑا آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے، جہاں ممتا بنرجی نے اسمبلی انتخابات میں شکست کے باوجود وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے۔
انتخابی نتائج کے مطابق بی جے پی کو 294 میں سے 207 نشستوں پر کامیابی ملی، جبکہ ترنمول کانگریس کو صرف 80 نشستیں حاصل ہوئیں۔ اس کے باوجود ممتا بنرجی نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور انہیں غیر قانونی طریقے سے ہرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ استعفیٰ دینے کے لیے راج بھون نہیں جائیں گی۔
ماہرین کے مطابق آئین میں وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ سے متعلق کوئی واضح شق موجود نہیں، تاہم روایتی طور پر اکثریت کھونے کے بعد استعفیٰ دیا جاتا ہے۔ ایسے میں آر این روی گورنر کے پاس اختیار ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیں یا انتہائی صورت میں صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کریں۔
ریاستی اسمبلی کی مدت 7 مئی کو ختم ہو رہی ہے، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے اور آئندہ چند دنوں میں اس بحران کے حل کے لیے اہم فیصلے متوقع ہیں۔


