حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک جرات مندانہ اقدام نے سب کو حیران کر دیا، جہاں ملکاجگیری کی پولیس کمشنر آئی پی ایس سُمتی نے آدھی رات کو عام خاتون کا روپ دھار کر سڑکوں پر اتر کر منچلوں کے خلاف خفیہ آپریشن کیا۔
یہ آپریشن دلسکھ نگر بس اسٹانڈ کے علاقے میں کیا گیا، جہاں وہ رات 12 بجے سے صبح 3 بجے تک اکیلی کھڑی رہیں۔ اس دوران متعدد افراد نے ان سے نازیبا گفتگو کی، غیر اخلاقی پیشکشیں کیں اور ہراساں کرنے کی کوشش کی، چونکہ کسی کو ان کی اصل شناخت کا علم نہیں تھا، اس لیے منچلے بے خوف ہو کر اپنی حرکتیں جاری رکھے رہے۔ بعد ازاں جب پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور ان کی شناخت ظاہر ہوئی تو سب حیران رہ گئے۔
اس آپریشن کے دوران تقریباً 40 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں زیادہ تر طلبا اور نوجوان شامل تھے۔ پولیس نے انہیں سخت تنبیہ کے ساتھ کونسلنگ بھی دی اور مستقبل میں ایسی حرکتوں سے باز رہنے کی ہدایت کی۔ یہ اقدام نہ صرف پولیس کی مستعدی کا ثبوت ہے بلکہ شہریوں کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ خواتین کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔


